حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 329
سُوْرَۃُالْعَنْکَبُوْتِ مَکِّیَّۃٌ ۳۔ اﷲ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔کوئی انسان کہہ دے کہ میں مومن ہوں۔تو یہ تو مختلف وجوہات سے مثلاً کسی شرم و لحاظ سے کہہ سکتا ہے۔کہ میں مومن ہوں چنانچہ قرآن کریم کے دوسرے رکوع میں لکھا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں لیکن درحقیقت وہ مومن نہیں ہوتے۔آجکل نئی روشنی میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہے کہ جس قسم کی سو سائٹی ہے ویسے ہی ہو جاؤ۔وہ سمجھتے ہیں کہ مذہب صرف سو سائٹی میں آرام سے رہنے کا ذریعہ ہے۔یہاں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔صرف یہ کہہ دینا کہ میں مومن ہوں۔کافی نہیں۔جتنی قومیں ان سے پہلے آئی ہیں۔سب کو کٹھالی میں ڈالا گیا تا معلوم ہو کہ کون جھوٹے ہیں اور کون سچے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۵۔۱۹۶) یاد رکھو کہ ہماری اور ہمارے امام کی کامیابی ایک تبدیلی چاہتی ہے۔کہ قرآن شریف کو اپنا دستورالعمل بناؤ۔نِرے دعوے سے کچھ نہیں ہو سکتا۔اس دعوے کا امتحان ضروری ہے۔جب تک امتحان نہ ہولے کوئی سر ٹیفکیٹ کامیابی کامِل نہیں سکتا۔خیر القرون کے لوگوں کو بھی یہی آواز آئی۔ کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر چھوڑ دئے جاویں گے کہ وہ ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ابتلاؤں اور آزمائشوں کا آنا ضروری ہے۔بڑے بڑے زلزلے اور مصائب کے بادل آتے ہیں۔مگر یاد رکھو ان کی غرض تباہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ اﷲ تعالیٰ کا منشاء اس سے استقامت اور سکینت کا عطا کرنا ہوتا ہے اور بڑے بڑے فضل اور انعام ہوتے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے اور بالکل