حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 314

کوئی طمع نہیں کیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۳) ۲۸۔   :نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم بھی مدینہ سے آٹھ برس بعد وطن میں آئے اور دو برس بعد یعنی دس برس پر فتح کیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۳) ہندوستان میں بالخصوص عورتوں کی ایسی بے قدری ہے کہ جسے گالی دینی ہو۔اسے کہتے ہیں سُسْرایا سالا گویا لڑکی تو درکنار۔لڑکی کا باپ۔لڑکی کی ماں۔لڑکی کا بھائی بھی مجرم ہیں۔اور دنیا میں بدترین انسان ہیں۔کئی خبیث باطن ہیں۔جب اپنی بی بی پر ناراض ہوتے ہیں تو اسے کہتے ہیں اپنے باپ کے گھر سے کیا لائی تھی؟ گویا باپ کا جہاں یہ فرض ہے کہ اپنی لڑکی دے تو ساتھ ہی یہ بھی کہ وہ بہت سا مال و اسباب اپنے داماد کو دے! یہ طریق انبیاء کا نہیں۔حضرت موسٰیؑ ایک بزرگ کے ہاں جاتے ہیں جو انہیں ارشاد فرماتے ہیں۔۔میں چاہتا ہوں کہ تجھے اپنی ایک لڑکی ان دونوںمیں سے نکاح کردوں۔اس شرط پر کہ تُو آٹھ سال میری نوکری کرے اور اگر تو دس سال پورے کرے تو یہ تیری برخورداری ہے۔اسی طرح حضرت یعقوبؐ کو بھی اپنے سسرال کی خدمت کرنی پڑی اور جب اس لڑکی کی بجائے دوسری لڑکی کی خواہش کی تو انہیں سنایا گیا۔کہ اتنے سال اور خدمت کرنی ہو گی۔(تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۱۱ صفحہ ۴۳۹ماہ نومبر ۱۹۱۱ء) ۲۹۔