حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 28
: حدیثوں میں آیا ہے کہ مَاوَجد ا نصبًا اِلَّا اِذَا جَاوَزَا تھکان اس وقت معلوم ہوا جبکہ اصل مقصد کی جگہ سے آگے چل پڑے۔یہ انبیاء علیھم السلام کے نورِ فراست پر دلیل ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۰) ۶۴۔ َ : آپ کو خبر بھی ہے۔: عجیب بات ہے۔( جُدا کلمہ ہے) یا یہ کہ مچھلی کا گُم ہو جانا ایک عجیب بات ہے۔: صَرفی نکتہ ہے کہ ضمیر غائب کے ماقبل۔زیرؔ یا یؔ ہو تو ہ پر زبر ہوتی ہے اور اگر یہ نہ ہو تو پھر پیش! اس جگہ اعتراض کیا گیا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ جہاں توّجہ دلانی مقصود ہو یا کسی کی تقبیح وہاں غیر فصیح الفاظ لاتے ہیں۔چنانچہ یہاں شیطان کی تقبیح مطلوب ہے۔…‘‘ فائدہ: آج کل لوگ نسیان کی بہت شکایت کرتے ہیں۔امام شافعی صاحب فرماتے ہیں۔؎ شکوتُ اِلٰی وکیعٍ سوئَ حفظی فاوصانی اِلٰی ترک المعاصی فان الحفظ فَضْلٍ مِنْ اِلٰہٍ وَ فضل اﷲ لَا یُعطٰی لعاصی ترجمہ: میں نے وکیع کے آگے حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا۔کہ گناہوں کو ترک کرو کیونکہ حافظہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور فضل گناہ گار کو نہیں ملتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۷،۲۴مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۹) ۶۶۔ : حضرت خضر جو مَلک ہیں بشر نہیں۔اور اب بھی بعض ولیوں کو ملتے