حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 295 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 295

 طَیَّرْنَابِکَ: برابر حصّہ اٹھایا ہے۔ہم نے تجھ سے اور تیرے ساتھ والوں سے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۰) ۴۹۔  : یہ مکّہ والوں کو سنایا جاتا ہے۔مکّہ میں بھی نوہی تھے ان کے نام ۱۔ابوجہل ۲۔ولید ۳۔نضر ۴۔عتبہ ۵۔شیبہ ۶۔اُمیّہ ۷۔اُبیّ ۸۔عقبہ ۹۔حارث بن عامر (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۰ نیز تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۱) جب اﷲ تعالیٰ ایک جماعت بنانے کا ارادہ کرتا ہے۔اور کوئی مصلح دنیا میں بھیجتا ہے۔تو انہیں لوگوں میں سے جن کی وہ اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ایک مفسد گروہ پیدا ہو جاتا ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وبارک وسلّم جیسے شاندار نبی کے زمانہ میں بھی ایسے مفسد کھڑے ہوئے اور وہ نو طرز کے آدمی تھے۔اور مفسد عموماً نو قسم کے ہی ہوتے ہیں۔سورۂ شعراء میں ان کی تفصیل ہے۔یہ لوگ آپؐ کے کاموں میں بڑے حارج اور مفسد ہوئے۔وہ کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔بلکہ بڑے درجہ کے لوگ تھے۔اس واسطے آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو ان کی شرارتوں کے سبب اور ان کے ہدایت کی طرف رجوع نہ کرنے کے سبب بہت غم اور حُزن تھا۔کہ یہ لوگ ہمارے کام میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ایسے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کو تشفّی دیتا ہے۔اور اگر خدا کی طرف سے تشفّی نہ ہوتی تو وہ غم ناقابلِ برداشت ہو جاتا۔(بدر ۵؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۱۰۔۱۱) ۵۱۔ مَکَرْنَا مَکْرًا: بڑی باریک تدبیریں کیں۔وہ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ( انفال:۳۱) ہے