حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 294
: محل دیا۔اور ساتھ ہی اس طرح ایک وعظ کیا۔: اس کے معنے ہیں ’’ گھبرا گئی‘‘ خوب یاد رکھو آپ کا مطلب یہ تھا کہ سورج کی تیری قوم جو پرستش کرتی ہے وہ ایسی ہی غلطی میں گرفتار ہے۔جس طرح یہ شیشہ ہے اور اس کے نیچے پانی ہے۔ایسا ہی سورج کو روشنی دینے والا ایک اور نور ہے۔اصل وہی ذات ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۰) آپ کے متعلق شریر لوگوں نے یہ قصّے مشہور کر رکھے ہیں کہ ان کی بیوی مُشرکہ تھی۔اور ایک انگوٹھی کے زور سے سب حکومت کرتے تھے۔جب وہ گم ہو گئی۔تو سلطنت بھی چھن گئی۔اور ایک دیو ؔ ان کی شکل پر ہو کر اس ملک پر متصرف و قابض ہوا۔وغیر ذٰلک مِن المذخرفاتِ۔جن کی نقل بھی ایک مومن کی غیرت گوارا نہیں کر سکتی۔اﷲ تعالیٰ نے ان سب مطاعن کی تردید کیلئے یہ بیان مفصّل کیا اور بتایا کہ ان کی بیوی تو مسلمان تھی۔چنانچہ وہ خود کہتی ہے۔ اور پھر کہا (تشحیذالاذہان جلد۶ نمبر۱۱ صفحہ۴۳۴) ۴۶۔ اُ: کامل محبت۔کامل فرماںبرداری۔کامل تضّرع ایک ہی ذات پاک کیلئے ہو جس کا نام اﷲ ہے۔: ایک ماننے والے۔ایک مُنکر۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۱؍۲۸؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۰) ۴۸۔