حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 273
: دیکھو یسعیاہ کے باب ۴،۵ کو۔۲۱۱ تا ۲۱۳۔ قرآن ایسی کتاب ہے۔کہ شریر اس کے سننے کی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔چہ جائیکہ دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۸) اﷲ تعالیٰ سے دور ہلاک ہونے والی خبیث روحوں کے ذریعہ یہ کلامِ الہٰی نازل نہیں ہوا۔اور ان کے مناسب حال بھی نہیں۔اور ایسا کلام لانے کیلئے وہ طاقت ہی نہیں رکھتے۔بے ریب ایسا کلام سننے سے وہ الگ کئے گئے ہیں کیونکہ تمام شیطانی کاموں کا قرآن مجید میں استیصال ہے۔بھلا شیطان اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا ہے۔شیاطین تو ہر ایک کذّاب۔مفتری۔بہتانی۔بدکار پر نازل ہو اکرتے ہیں۔(نورالدّین طبع ثالث صفحہ۲۰۱) ۲۱۵۔ مومن پر لازم ہے کہ پہلے اپنی اصلاح کرے پھر اقرباء کو سمجھائے اور ان کو سمجھانا تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے اپنے اقرباء کو خوب سمجھایا۔پہلے دعوت کی۔موقعہ نہ مِلا تو پھر دعوت کی اور انہیں وعظ کیا۔پھر جو کسر رہی تو پہاڑ پر چڑھ کر سب کو نام بہ نام پکارا۔یہاں تک کہ صبح سے لے کر عصر کی نماز کا وقت آ گیا۔عصر کے بعد کہا۔اگر ہم کہہ دیں کہ مکّہ پر دشمن کا لشکر چڑھائی کرنے والا ہے تو تم میری بات کا یقین کرو گے۔یا نہیں۔انہوں نے کہا۔کیوں نہیں۔کہ آپ صادق ہیں۔اس پر آپ نے کہا اَنَا النَّذِیْرُ الْعُرْیَانُ۔میں ڈرانے والا ہوں۔دیکھو تم پر عذابِ الہٰی آنیوالا ہے اپنی عاقبت کی فکر کرو۔اپنے تئیں شیطانی اعمال سے بچا لو۔میں بھی عصر کے بعد تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے تئیں بے جا غضب۔شہوت۔کسل و کاہلی۔حرص و طمع سے بچالو۔اس وقت صحابہؓ کی طرح تمہیں موت کا سامنا نہیں۔بلکہ دین کی خدمت آسان ہے۔تم قلم چلاؤ۔تقریر کرو۔مگر خدا کی رضامندی کیلئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۸)