حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 271
کر گیا۔۳۔تو جادو دیا گیا ہے۔تقریر لطیف کرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۴؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۸) ۱۵۹۔ پس لے لیا ان کو عذاب نے۔اس بات میں البتّہ نشانی ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۷۲) ۱۶۱۔ چار چیزیں بڑی نقصان دہ ہیں۔۱۔غضب جس سے بولتے وقت ہوش و حواس باطل ہو جاتے ہیں۔اس کے پانچ علاج ہیں۔۱۔چلتا ہوا ٹھہر جائے ۲۔ٹھہرا ہوا بیٹھ جاوے ۳۔بیٹھا ہوا لیٹ جاوے ۴۔لاحول پڑھے ۵۔بائیںطرف تھوک دیوے۔ٹھنڈا پانی پی لے۔۲۔شہوت۔اَلنِّسَائُ حَبَائِلُ الشَّیْطَانِ۔شہوت نے بہت سی مخلوق کو ہاویہ میں ڈالا ہے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا مَنْ یَضْمَنُ لِیْ مَابَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ اَضْمَنْ لَہٗ الْجَنَّۃَ وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور جو دو رانوں کے درمیان ہے۔اگرتم ان پر قابو پا لو۔تو میں تمہارے جنّت کا ذمّہ دار ہوتا ہوں۔جو لوگ شہوت کا خیال رکھتے ہیں۔وہ جریان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔نظر۔حافظہ۔دل کا حوصلہ تمام طاقتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔یہ شہوانی نظر کا نقصان ہے۔جو اس سے آگے بڑھے۔وہ سوزاک۔آتشک میں گرفتار ہوتے ہیں۔۳۔حرص و طمع دنیوی۔اس میں نہ حلال کو دیکھتے ہیں نہ حرام کو۔نہ دیانت۔نہ امانت۔اپنے لئے سب کچھ حلال۔دوسروں کو اس کا حق دینا بھی بارِ خاطر۔۴۔کسل و کاہلی۔مسلمانوں میں یہ مرض آج کل بہت ہی بڑھا ہوا ہے۔نماز میں ابن حزم کا مذہب یہ ہے کہ وہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِوَ الْکَسْلِ کو فرص سمجھتے تھے۔عجز کے معنے ہیں اسباب کا جمع نہ ہونا۔کسل اسباب مہیا شدہ سے کام نہ لینا۔۵۔(مومن:۸۴) دوسرے کی تحقیر اور اپنے تئیں بہت کچھ سمجھنا اور اپنے علم پر نازاں ہونا۔