حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 241 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 241

  اور اس کے سوائے اور معبود اختیار کئے، جو کچھ پیدا نہیں کرتے۔اور خود مخلوق ہیں۔اس آیت ِ شریف میں ان تمام ادیانِ باطلہ کی طرف اشارہ ہے جن میں خدا کے سوائے کسی اور کو معبود بنایا گیا ہے۔اور یہ ایک بیّن دلیل اس امر کی ہے کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں۔کیونکہ جس کو خَلق کی طاقت نہیں وہ اپنی غیر مخلوق سے عبادت کرانے کا حق نہیں رکھتاہے۔عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع خدا تھا۔ان کا یہ مسئلہ بڑی آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔جبکہ سوال کیا جاوے کہ یسوع نے کیا پیدا کیا۔پیدا کرنا تو جدا وہاں تو یہ حال ہے کہ اپنے ہی شاگرد نے یہودیوں کے ہاتھ پکڑواکر پھانسی دلوادیا۔اور اتنا نہ ہوسکا کہ ان پھانسی دینے والوں کو مار ہی دیتا۔کیونکہ خدا میں دونوں طاقتیں ہیں پیدا کرنا اور مارنا۔خود عیسائی لوگ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ مسیحؑ نے کچھ پیدا کیا تھا۔موجودہ انجیلوں نے تو عیسویت کا اور بھی بیڑہ غرق کیا ہے۔کیونکہ ان میں لکھا ہے کہ یسوع نے بہت رو رو کر دعا کی کہ صلیب سے بچ نکلے پر پھر بھی نہ بچ سکا۔(بدر ۲۹؍جون۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۶،۷۔   ، کا جواب ہے۔کہ یہ کہانیاں نہیں ہیں پیشگوئیاں ہیں۔(ضمیمہ اخباربدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۴) ۸۔  : یہ تو انسان ہے حالانکہ لکھا تھا۔خدا فاران