حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 240 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 240

وہ جس کیلئے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمینوں کی اور جس نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور جس کی بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے۔اور جس نے ہر شئے کو پیدا کیا اور پھر ہر شئے کا ٹھیک ٹھیک اندازہ مقرر کیا۔آسمان و زمین سب جگہ خدا کی سلطنت ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔اس واسطے وہی ایک عبادت کے لائق ہے۔کسی اَور کو معبود بنایا جاوے تو باطل ہے۔(بنی اسرائیل:۱۱۲) اس نے اپنا کوئی بیٹا نہیں بنایا۔اس میں عیسائیوں کی تردید ہے۔جو مسیح کو ابن اﷲ کہتے ہیں۔ ہر شئے کا وہی خالق ہے۔اس میں آریوں کی تردید ہے۔جن کا مذہب ہے کہ خُدا مادہ اور رُوح وغیرہ کا خالق نہیں۔ خدا نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے کیا معنے؟ جیسا عمل کیا جاتا ہے۔ویسا ہی پھل ملتا ہے۔نیکی کرنے والا بد نتیجہ نہیں پا سکتا۔اور بدی کرنے والا نیک نتیجہ حاصل نہیں کر سکتا۔سُست آدمی چُستی کا فائدہ نہیں پا سکتا۔یہ مسئلہ تقدیر کا بڑی ہمّت بڑھانے والا ہے اور انسان کو اعلیٰ مراتب پر پہنچانے والا ہے۔افسوس ہے کہ جن لوگوں نے اس کے صحیح معنے نہیں سمجھے وہ اس کو اپنی تمام کمزوریوں اور غفلتوں کی ڈھال بناتے ہیں۔مسئلہ تقدیر کو مولوی رومیؒ صاحب نے ایک رباعی میں خوب ادا کیا ہے ؎ از مذاہب مذہبِ دہقان قوی اے مولوی مذہب دہقان چہ باشد ہرچہ کِشتی بدروی گندم از گندم بروید جَو زِ جَو ہرچہ کِشتی بدروی اے مولوی سوال: جب خدا تعالیٰ انسان کے اعمال نیک و بد کو پہلے سے لکھ چکا ہے۔تو پھر انسان مجبور ہے۔کیونکہ ان میں کچھ کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔جواب: علم تابع معلوم ہوتا ہے۔خدا کے علم نے ہم کو مجبور نہیں کیا کہ ہم یہ کام کریں یا نہ کریں بلکہ ہمارے اس کام کے کرنے یا نہ کرنے کے سبب خدا کو علم حاصل ہے۔مثلاً استاد ایک لڑکے کی کم توجہی کے سبب امتحان سے پہلے کہہ دیتا ہے۔یا لکھ دیتا ہے کہ یہ لڑکا ضرور فیل ہو جائے گا۔اور بعد میں وہ فیل ہو جاتا ہے۔تو استاد کے کہنے یا لکھنے نے اس کو فیل نہیں کر دیا۔بلکہ اس کی اس حالت نے ایک دانا استاد کو پہلے سے یہ علم دے دیا۔چونکہ خدا عالم الغیب ہے۔وہ جانتا ہے کہ ہم کیا کریں گے لیکن اس کے جاننے نے ہم کو مجبور نہیں کیا۔بلکہ ہمارا ایسا کرنا اس امر کا موجب ہوا تھا کہ خدا کو پہلے سے یہ علم حاصل ہو۔(بدر ۲۹؍جون۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۴۔