حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 236 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 236

ایسا بڑا فرقان ہمارے دیکھتے ہوئے ہمارے ملک میں ہوا۔الاتعجّب اور حیرت کا مقام ہے۔کہ دوسرے مشاہدہ کنندہ کو کوئی عبرت نہیں ہوئی۔یا ہوئی تو بہت کم! غور کرو۔وادی کانگڑہ میں جو بیس ہزار آدمی ہلاک ہوا ہے وہ دوسروں کو ایک عبرت دلانے والا واقعہ ہے۔نہ صرف ان لوگوں کو جو اس سلسلہ کے مخالف ہیں بلکہ احمدیوں کو بھی اپنی حالت کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہے۔یہود کی ذلّت اوران کاسؤر اور بندر بننا بھی ایسا واقعہ تھا کہ لوگ اس سے عبرت پکڑتے مگر غفلت کے باعث وہ عبرت نہیں۔غور کرو! ۔(البقرۃ:۶۷) پس کر دیا ہم نے اس قصّۂ یہود کو دہشت ان لوگوں کیلئے جو ان کے سامنے تھے اور پیچھے آنے والوں کے لئے اور نصیحت و وعظ متّقیوں کے لئے۔یہ فرقان کی دلیل دہریہ لوگوں کو بھی ہدایت کی طرف بلاتی ہے کیونکہ اگر خدا کوئی نہیں تو کیا سبب ہے کہ دنیا میں ہمیشہ وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو خدا کے مرسلین ہوتے ہیں۔اور عبادتِ الہٰی کا وعظ کرتے ہیں۔اور ان کے مخالف ناکام ہوتے ہیں۔اس سورۂ شریفہ میں تمام مذاہبِ باطلہ کی تردید کی گئی ہے۔چنانچہ اگلی آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔جو کسی اور شَئے کو مظہرِ خدا بناتے ہیں۔یا بُت پرستی کرتے ہیں۔(بدر ۲۹؍جون ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۳۔  : جب ولد نہیں۔تو کسی کا کیا لحاظ۔جب قوم بگڑی۔نذیر آ گیا۔اس میں پیشگوئی ہے کہ ابن اﷲ کہنے والے بھی مفتوح ہوں گے۔اور مُشرک بھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۷؍جولائی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۸۴) اﷲ تعالیٰ لاشریک ہے۔سب کا خالق ہے۔دلیل یہ ہے کہ ہر ایک چیز ایک اندازہ پر ہے۔اور محدود ہے۔اور یہ بات اگرچہ آریہ سماج اسے مانتے ہیں۔مشاہدات اور تجارب سے ہی ظاہر ہے۔اور ہر ایک محدود کیلئے حدبندی کرنے والا ضروری ہے۔اور مادہ و جیو کی حد بندی کرنے والا پھر خدا کے