حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 235
سُوْرَۃُ الْفُرْقَانِ مَکِّیَّۃٌ یہ سورۃ صحابہؓ کی تاریخ ہے۔ان کے سچّے حالات اس میں درج ہیں۔سورۃ مومنون میں عام مومنوں کو بشارت دی ہے۔النُّور میں خلفاء کی خصوصیت بیان فرمائی ہے۔اس میں صحابہؓ کی تاریخ اور حالات درج ہیں۔۲۔ بہت برکت والا ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل فرمایا۔تاکہ لوگوں کے واسطے ڈرانے والا ہو۔فرقان اس شئے کو کہتے ہیں جو جُدا کرنے والی اور تمیز پیدا کرنے والی ہو۔جس سے وہ باہمی مخالفت جو دو گروہوں کے درمیان ہو۔اس کا فیصلہ ہو جائے کہ ان میں سے سچّا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ہر ایک نبی کو ہمیشہ فرقان عطا کیا جاتا ہے۔حضرت موسٰی علیہ السلام کا فرقان وہ واقعہ تھا جس میں فرعون اور اس کا لشکر دریا میں غرق ہوئے۔اور حضرت موسٰیؑ بمع اپنی جماعت کے صاف بچ نکلے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرقان جنگ بدر کا دن تھا جس دن کہ مخالفوں کی زبردست طاقت والے اس سرگروہ کے ہلاک ہوئے اور مسلمانوں کو فتح اور غلبہ حاصل ہوا۔اس کے علاوہ دلائل اور حججِ نیرّہ کا فرقان ہے جو انبیاء اور ان کے متّبعین کو عطا فرمایا جاتا ہے۔فرقان یک دفعہ سارے جہان کو غارت نہیں کر دیتا۔بلکہ بعضوں کو اس وقت ہلاک کیا جاتا ہے تاکہ دوسروں کے واسطے خوف اور عبرت کا موقع ملے۔اس آیت میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔کیا معنے؟ فرقان اس واسطے نازل ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے واسطے ہدایت کا باعث ہوجائے۔جنگ بدر میں بڑے آدمی جو ہلاک ہوئے ان کی تعداد قربیاً آٹھ ہی تھی۔مگر