حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 219 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 219

اوّل صف میں کھڑے ہونے والے ہوتے ہیں۔وہ اس دارالغرور میں دل نہیں لگاتے۔چنانچہ تصوّف کی تعریف میں فرمایااَلتَّجَا فِیْ عَنْ دَارِالْغُرُوْرِ وَ الْاِنَابَۃُ اِلٰی دَارِالْخُلُوْدِ صوفی موت کی تیاری کرتا ہے قبل اس کے کہ موت نازل ہو۔ظاہری و باطنی طور پر پاکیزہ رہتا ہے یہاں تک کہ تجارت وبیع اس کو اﷲ تعالیٰ سے غافل نہیں کرتی () اصحابِ صفّہ انہی لوگوں میں سے تھے۔یہ لوگ دن بھر محنت و مشقّت کرتے۔اس سے اپنا گزارہ کرتے اور اپنے بھائیوں کوبھی کھلاتے اور پھر رات بھر وہ تھے اور قرآن شریف کا مشغلہ۔صحابہؓ میں تین گروہ تھے۔بعض ایسے کہ حضورِ نبویؐ میں آئے۔کچھ کلمات سُنے۔کچھ مسائل پوچھے پھر چلے گئے اور بس۔نماز پڑھ لی۔زکوٰۃ دی۔روزہ رکھا۔بشرطِ استطاعت حج کیا اور معروف امور کے کرنے اور نواہی سے رُکنے میں حسبِ مقدور کوشاں رہیں۔اور بعض ایسے جو اکثر صحبت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم میں بیٹھے رہتے۔اس مخلوق کے اندر ایمان رچا ہوا تھا۔سخت سے سخت تکلیف۔مصیبت اور دُکھ اور اعلیٰ درجہ کی راحت۔آرام اور سُکھ میں ان کا قدم یکساں خدا کی طرف بڑھتا تھا۔انہی لوگوں میں سے خواص ایسے تیار ہو گئے کہ خدا ان کا متولّی ہو گیا۔مجھے اس موقع پر ایک شعر یاد آگیا ؎ قَوْمٌ ھُمُوْ مُھُمْ بِاﷲِ قَدْ عَلِقَتْ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سارا خیال ان کو اﷲ کا رہ جاتا ہے۔اور اس کے بغیر کسی کے ساتھ حقیقی تعلق نہیں رکھتے۔نبی کی اتباع وہ کرتے ہیں مگر اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔بادشاہ کی اطاعت کرتے ہیں تو اسی لئے کہ اﷲ نے حکم دیا۔بیوی بچوں سے نیک سلوک بھی اسی لئے کرتے ہیں۔وہ دنیا کے کاروبار کرتے ہیں۔چھوڑ نہیں بیٹھتے مگر یہ سب باتیں یہ سب کام ان کے لِلّٰد ہوتے ہیں چنانچہ فرمایا ؎ فَمَطْلَبُ الْقَومِ مَوْلَاھُمْ وَسَیِّدُھُم۔یاَحُسْنَ مَطْلَبِھِمْ لِلْوَاحِدِ الصَّمَدٖ! (اخبار بدر قادیان ۲۷ جنوری ۱۹۱۰ء صفحہ ۸،۹) ۳۹۔  : پہلےسے بتایا