حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 17

انبیاء اس کے بیٹے۔ایوب ۳۸ باب ۷۔اور بدکار خدا کے بیٹے یسعیاہ ۳۰ باب ۱۔سب فرزند یوحنا ۱۱ باب ۲۵۔اب مار ڈالا کی تحقیق سن لو۔یہاں سخت ایذا کو مار ڈالنا کہا ہے کیونکہ مکاشفات ۵ باب ۹ میں ہے۔گویا ذبح کیا۔یہودی کہتے ہیں ہم نے مسیح کو قتل کر ڈالا۔قتل کے تو عیسائی بھی منکر ہیں۔پر قرآن کا مسیحؑ کے قصّے میں یہ کہنا  ( نساء:۱۵۸) بالکل سچ ہوا اور بعض یہود کہتے ہیں کہ ہم نے صلیب دی اور یہ بھی غلط ہے۔اس زمانے کی سُولی یہ نہ تھی۔جیسے اس وقت ہوتی ہے۔بلکہ آدمی کو کسی لکڑی پر ٹانگ دیتے تھے اور مصلوب بھوکا پیاسا ایذائیں پاتا مدّت کے بعد مر جاتا تھا۔اگر جلد اُتارتے تو ہڈیاں توڑ ڈالتے۔حضرت مسیح جلد اُتارے گئے۔مسیحؑ کی ہڈیاں توڑی نہیں گئیں۔پس قرآن کا یہ کہنا ُ بالکل سچ ہو گیا۔عربی میں مصلوب اُسی کو کہتے ہیں جس کی پیٹھ کی ہڈی توڑی جاوے۔دیکھو قاموس لُغت صلب اور مسیح ہڈی توڑنے سے محفوظ رہے۔دیکھو یوحنا ۱۹ باب ۳۳۔بات یہ ہے حاکم مسیحؑ کا حامی تھا دیکھو اس نے ہاتھ دھوئے اور کہا۔میں اس راست باز کے خون سے پاک ہوں۔متی ۲۷ باب ۲۴۔حاکم کی عورت حامی اور مددگار تھی۔خصم کو کہتی ہے مجھے اس راستباز سے کام نہ ہو۔متی ۲۷ باب ۱۹ صوبے دار اور یسوع کے نگہبان بھی حامی اور وہمی تھے۔اور پھر عیسائی۔متی ۲۷ باب ۵۳۔یوسف نام آرمیتیہ کا دولتمند۔سائنڈرم( مجلس شاہی ) کا ممبر بھی حامی۔متی ۲۷ باب ۵۷۔اور شاگرد منتظر بادشاہت تھا۔مرقس ۱۵ باب ۴۳۔لوقا ۲۳ باب ۵۰۔یہود کے خوف سے خفیہ رہتا یوحنا ۱۹ باب ۳۸ اس شخص نے لٹکانے کے چند گھنٹے بعد جب اندھیرا ہوا۔بادشاہ سے کہا یسوع مر گیا ہے۔لاش مجھے مرحمت ہو۔پلاطس حاکم نے تعجّب کیا کہ ایسا جلد کیونکر مرا مرقس ۱۵ باب ۴۴ مسیح کے مرنے میں پلاطس حاکم کو تعجب ہے کیسے مرا۔اور یوسف اور صوبہ دار معتقد گواہ ہیں اور یہود بے چارے سبت کے بکھیڑے میں موجود ہی نہیں۔قبر میں رکھا اور مٹی کی مُہر کی اور کوئی محافظ اس وقت نہ تھا۔خیر خواہ اپنے خاکسار کو نکال لے گئے۔بیشک مسیحؑ مُردہ یہودیوں سے جی اُٹھے۔ابدی زندگی میں جلال پا گئے۔ایت وار کو حفاظت شروع ہوئی۔پس صاف آشکار ہے وہ بے گناہ بچ گئے اسی واسطے قرآن کا کہنا (نساء:۱۵۸)بالکل درست ہے۔یا انجیلی محقّقوں کے طور پر کہتے ہیں۔آپ کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔ویسے ہی مر گئے۔بے ایمان یہودی اسی بات پر یقین رکھتے اور کہے گئے۔ہم نے مسیحؑ کو مار ڈالا۔