حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 16
تفسیر: باغ لگانے والا وہی خداوندِ بنی اسرائیل ہے۔یسعیاہ ۵ باب ۲۔۳۔انگور بنی اسرائیل کی قوم ہے۔زبور باب ۸۰ آیت ۹۔تاکستان یروشلم ہے۔غزل الغزلات ۸ باب ۱۳۔یسعیاہ ۵ باب آیت ۳،۵،۷ قرآن بھی کہتا ہے۔ (الکہف:۳۳) یاد رکھو۔مالک کے آنے تک دیر ہے۔اور موسم پر ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا تاکہ وے اس انگور کے باغ کا پھل اس کو دیں لاکن باغبانوں نے اس کو پیٹ کے خالی ہاتھ پھیرا۔تفسیر دیکھو یرمیاہ ۲۷ باب ۱۵۔۳۸ پھر اس نے دوسرے نوکر کو بھیجا۔انہوں نے اس کو پیٹ کے اور بے عزّت کر کے خالی پھیرا تفسیر۔یہ شخص اور یا تھا۔یرمیاہ ۲۶ باب ۲۳۔یہ اس لئے کہ متی ۲۱ باب ۳۵ میں مار ڈالنا لکھا ہے۔پھر اسی لئے تیسرے کو بھیجا۔انہوں نے گھائل کر کے اس کو بھی نکال دیا۔تفسیر۔۲ تاریخ ۲۴ باب ۲۱ تب باغ کے مالک نے کہا۔کیا کروں۔میں اپنے پیارے بیٹے ( یہ مسیحؑ ہیں) کو بھیجوں گا۔شاید اسے دیکھ کر دَب جاویں۔جب باغبانوں نے اسے دیکھا۔آپس میں صلاح کی اور کہا۔یہ وارث ہے۔آؤ اس کو مار ڈالیں۔میراث ہماری ہو جاوے۔تب اس کو باغ کے باہر نکال کر مار ڈالا۔اب باغ کا مالک ان کے ساتھ کیا کریگا۔وہ آوے گا اور ان باغبانوں کو قتل کرے گا۔اور باغ اوروں کو سونپے گا۔تفسیر۔مرقس ۱۲ باب ۶۔اب اس کا ایک ہی بیٹا تھا۔جو اس کا پیارا تھا۔بیٹے کا لفظ یہاں بمعنی صلح کار کے لیا ہے۔بیٹے کا لفظ کتب مقدّسہ میں وسیع معانی کے ساتھ مستعمل ہے۔بیٹے کے حقیقی معنے باپ کے نطفے اور اس کی جو رو کے رحم سے پیدا ہونے والے کے ہیں۔عیسائیوں کے نزدیک بھی یہ معنی صحیح نہیں۔رہے مجازی معنے بیٹے کے۔وہ وسیع ہیں۔ہم نے حسبِ حال صلح کار کے لئے ہیں۔متی ۵ باب ۹۔مبارک وے جو صلح کار ہیں کیونکہ خدا کے فرزند کہلائیں گے اور مسیحؑ صلح کا شہزادہ ہے۔یسعیاہ ۹ باب ۶۔حسبِ بیان مرقس ایک ہی بیٹے رہ گئے۔بنی اسرائیل میں کامل صلح مسیحؑ میں تھی۔اور اسی سے بنی اسرائیل کے گھرانے کی نبوّت و رسالت کا خاتمہ ہو گیا۔خدا کے فرزند کا محاورہ دیکھنا ہو تو دیکھو ’’مبحث الوھیتِ مسیحؑ‘‘ وہاں ثابت کیا ہے۔حسبِ محاورہ کتب مقدّسہ فرشتے خدا کے بیٹے ہیں۔ایوب ۱ باب ۶ اور انبیاء اس کے بیٹے۔ایوب ۳۸ باب ۷۔اور بدکار خدا کے بیٹے یسعیاہ ۳۰ باب ۱۔سب فرزند یوحنا ۱۱ باب ۲۵۔