حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 183 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 183

کئے جاتے ہیں۔میں نے بارہا معترضوں اور مخالفوں سے بھی پوچھا ہے کہ کوئی ایسا اعتراض کریں جو کسی نبی پرنہ کیا گیا ہو۔مگر میں سچ کہتا ہوں کہ کوئی نیا اعتراض پیش نہیں کرتے۔میں تعجب کرتا ہوں کہ آج جو لوگ حضرت اقدس ۱؎ کی مخالفت میں اُٹھے ہیں۔ان کے معتقدات کا تو یہ حال ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی بعثت کی اصل غرض اور قرآن شریف کی تعلیم کا خاص منشاء دنیا میں سچّی توحید کا قائم کرنا تھا۔مگر لوگوں کو پوچھو تو وہ مسیحؑ کو خالق مانتے ہیں کَخَلْقِ اﷲِ۔شافی مانتے ہیں۔عالم الغیب یقین کرتے ہیں۔مُحْیِیْ اُسے مانتے ہیں۔حلال اور حرام ٹھہرانے والا اُسے سمجھتے ہیں۔قدّوس وہ ہے۔ساری دنیا کے راستبازوں حتّٰی کہ اصفی الاصفیاء سرورِ انبیاء محمد مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وسلم تک کو مسِّ شیطان سے بَری نہیں سمجھتے۔مگر مسیحؑ کو بَری کرتے ہیں۔مسیح خلاء میں ہے۔زندہ ہے مگر باقی سارے نبی فوت ہو چکے۔اس کے آئندہ مرنے کے دلائل بھی بودے۔کمزور اور ایسے الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ان پر بہت سے اعتراض ہو سکتے ہیں۔غرض وہ کونسی ۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔مرتّب صفت خدا میں ہے جو مسیح میں نہیں مانتے۔اس پر بھی جو ایک خدا کے ماننے کی تعلیم دیتا ہے اور خدا کی عظمت و جلال کو اسی طرح قائم کرنا چاہتا ہے جیسے انبیاء کی فطرت میں ہوتا ہے۔اس پر اعتراض کیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو کہا جاتا ہے کہ سلف کے اقوال میں اس کے آثار نہیں پائے جاتے۔افسوس ! یہ لوگ اگر انبیاء علیھم السلام کی مشترکہ تعلیم کو پڑھتے اور قرآن شریف میں ماموروں کے قصص اور ان کے مخالفوں کے اعتراضوں اور حالات پر غور کرتے تو انہیں صاف سمجھ میں آ جاتا کہ یہ وہی پرانی تعلیم ہے جو نوح۔ابراہیم۔عیسیٰ علیھم السلام اور سب سے آخر خاتم الانبیاء محمد مصطفٰی صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم لے کر آیا تھا۔اگر تعلیم پر غور نہ کر سکتے تھے تو ان اپنے اعتراضوں ہی کو دیکھتے کہ کیا یہ وہی تو نہیں جو اس سے پہلے ہر زمانہ میں ہر مامور پر کئے گئے ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ یہ قرآن شریف کو پڑھتے ہی نہیں۔غرض یہ بھی ایک مرحلہ ہوتا ہے جو مامور من اﷲ اور اس کے مخالفوں کو پیش آتا ہے اور اس زمانہ میں بھی پیش آیا پھر جب یہ لوگ گھبرا اُٹھتے ہیں اور لوگوں کو دینِ الہٰی کی طرف رجوع کرتا ہوا پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ انکی مخالفتیں اور عداوتیں مامور کے حوصلہ اور ہمّت کو پست نہیں کر سکتی ہیں اور وہ ہر آئے دن بڑھ بڑھ کر اپنی تبلیغ کرتا ہے اور نہیں تھکتا اور درماندہ نہیں ہوتا اور اپنی کامیابی اور مخالفوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں کرتا ہے جیسے نوح علیہ السلام نے کہا کہ تم غرق ہو جاؤ گے اور خدا کے