حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 182
یا منافقانہ رنگ میں شریک ہو جاتے ہیں۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تین قسم کے لوگ ہوتے تھے۔ایک وہ جو سابق اوّل المہاجرین تھے اور دوسرے وہ جو فتح کے بعد ملے اور تیسرے اس وقت جو (النّصر:۳) کے مصداق تھے۔اس طرح جو لوگ عظمت و جبروتِ الہٰی کو پہلے نہیں دیکھ سکتے آخر ان کو داخل ہونا پڑتا ہے اور اپنی بودی طبیعت سے اپنے سے زبردست کے سامنے مامور من اﷲ کو ماننا پڑتا ہے بلکہ آخر(التوبۃ:۲۹) کے مصداق ہو کر رہنا پڑتا ہے۔پھر اس سے ایک اور گندہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب ملائکہ بھی نہیں آتے۔ہمیں بھی الہام نہیں ہوتا۔کشف نہیں ہوتا۔اور یہ دوکاندار بھی نہ سہی۔مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ کیا ہمارے پیشوایانِ مذہب نے اُس کو مان لیا ہے؟ وہ لوگ چونکہ اپنے نفس کے غلام اور اپنے جذبات کے تابع فرمان ہوتے تھے۔اس لئے پھر کہہ دیتے ہیں کہ مَا سَمِعْنَابِھٰذا فِیْ اَبَآئِ نَا الْاَوَّلِیْنَ ہم نے یہ باتیں جو یہ بیان کرتا ہے اپنے آباء و اجداد سے تو کبھی نہیں سنی ہیں۔جب کوئی مامور من اﷲ آتا ہے تو نادان بدقسمتی سے یہ اعتراض بھی ضرور کرتے ہیں۔کہ یہ تو نئی نئی بدعتیں نکالتا ہے اور ایسی تعلیم دیتا ہے جس کا ذکر بھی ہم نے اپنے بزرگوں سے نہیں سنا۔اس وقت بھی جب خدا کی طرف سے ایک مامور ہو کر آیا اور اُس نے سنّتِ انبیاء کے موافق ان بدعتوں اور مشرکانہ تعلیموں کو دُور کرنا چاہا جو قوم میں بُعدِ زمانہ کے باعث پھیل گئی تھیں تو ناعاقبت اندیش ناقدر شناس قوم نے بجائے اس کے کہ اس کی آواز پر آگے بڑھ کر لبّیک کہتی اس کی مخالفت شروع کی اور نوحؑ کی قوم کی طرح اس کی باتوں کو سُن کر یہی کہامَا سَمِعْنَاِ بِھٰذا فِیْ اَبَآئِ نَا الْاَوَّلِیْن۔یہ سلف کے خلاف ہے۔یہ اجماعِ اُمّت کے خلاف ہے۔فلاں بزرگ کے اقوال میں کہاں لکھا ہے؟ یا فلاں مفسّر کے مخالف ہے وغیرہ وغیرہ یہی صدائیں ہمارے کان میں آ رہی ہیں۔ورنہ اگر غور کیا جاتا اور ذرا ٹھنڈے دل سے ان باتوں پر توجہ کی جاتی جو خدا کا مامور لے کر آیا تھا اور سنن انبیاء کے موافق اس کی تعلیم کو دیکھا جاتا تو آسانی کے ساتھ یہ عقدہ حل ہو سکتا تھا۔مگر افسوس ان نادانوں نے جلد بازی سے وہی کہا جو پہلے معترضوں اور مخالفوں نے کہا۔میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں انبیاء و رسل کے مخالفوں کے اعتراضوں کو پڑھ کر مجھے بڑی عبرت ہوئی ہے۔اور خدا کے فضل سے میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ میرے سامنے اب کسی نشان یا اعجاز کی ضرورت میرے ماننے کیلئے نہیں رہی۔اس لئے میں تمہیں یہ اصول سمجھاتا ہوں کہ مامور من اﷲ جب آتے ہیں تو کیا لے کر آتے ہیں۔اور ان پر کس قسم کے اعتراض