حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 112
اور ریاکاروں کی شادمانی لمحے کی ۲۰ باب ۵۔ایوب پس جو لوگ قرآن کو نہیں مانتے ان پر معیشت بے شک تنگ ہے۔انکا چراغ گُل ہو گا۔معیشت۔ضنک۔تنگ حالی ان کے پاس مستعد رہے گی۔وہ ویران شہروں میں بسیں گے۔ان کی شادمانی لمحے کی ہے۔قرآن بھی کہتا ہے۔(النساء:۷۸) پونجی دنیا کی تھوڑی ہے۔دوسرے جملۂ اعتراض کا جواب: وہ دُکھ جو خدا کیلئے ہے ایک بخشش ہے۔فلپی ۱ باب ۲۹۔وہ دُکھ جو خدا کیلئے ہے خوشی کا باعث ہے۔اعمال ۵باب ۴۱۔کیونکہ باپ کے ہاتھ سے ملتا ہے۔یوحنا ۱۸ باب ۱۱۔یہ پیالہ ہے۔نہ سمندر۔زبور ۷۵ باب ۸۔اس میں غوطہ لگا کر مرتے نہیںاور آرام سے نا امید نہیں۔یسعیاہ ۴۳ باب۲۔قرنتی ۴ باب۸۔… یہ ایسی بات ہے جیسی لوقا کہتے ہیں۔تمہارے سر کے بال بھی نہ ہلیں اور یہ بھی کہ وے قتل کریں گے۔لوقا ۲۱ باب ۱۶۔۱۸ اور متی ۲۴ باب۹۔ایک اور حقیقی جواب بخاری میں لکھا ہے۔ضَنکؔ کے معنی شقاوت اور بدبختی کے ہیں۔اور یہی معنی ابن عباسؓ نے لئے ہیں۔پس سوال کا موقع ہی نہ رہا۔( فصل الخطاب طبع اوّل صفحہ ۱۷۰۔۱۷۱) ۱۲۷۔ : ترک کیا گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۹؍جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۷۰) ۱۳۰۔ : عذاب کیلئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔چنانچہ مشرکانِ عرب کے بارے میں فرمایا۔(انفال:۳۴) پھر فرمایا