حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 8
کیونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کے زمانہ میں وہ قوم سُست پڑی تھی۔مگر آپؐ نے ان کی حالت آئندہ کی دیکھی۔ : عنقریب تجارت کے واسطے سب طرف نکلیں گے۔دائیں بائیں جاویں گے۔کیا معنی۔مشرق اور مغرب میں پھیلیں گے۔ : یہ ان کی شناخت بتلائی گئی کہ ان کے دروازے پر کتّا ضرور ہو گا۔ممکن ہے کہ ابتدائی اصحابِ کہف کے ساتھ بھی کوئی کتّا ہو۔آج کل کتّے کی تعریفِ وفاداری میں بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں حالانکہ اس جانور کے اخلاق نہایت قبیح اور مذموم ہیں۔شہوت۔حرص۔طمع میں بہت رذیل جانور ہے اور ان امور میں گرا ہوا ہے۔َ: یہ بھی ایک شناخت ہے۔ان کی کوٹھیاں وسیع اور رعب دار ہوں گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰؍ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۶) : ایک وقت آئے گا کہ یہ دور دراز پھیل جائیں گے ان کے نشان یہ ہیں کہ ان کی کوٹھیوں میں کتاّرہتا ہے۔اور ان کا رعب ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۶۴ ماہ ستمبر ۱۹۱۳) ۲۰۔ : اس حالت میں حالتِ سُستی میں کتنی مدّت تم رہے۔: ہزار۔نو سو سال۔اوسط ساڑھے نو سو سال۔اتنے ہی عرصہ کے بعد یہ قوم باہر نکلی اور انہوں نے کمپنیاں بنائیں اور تجارتیں شروع کیں اور غیر ملکوں کی طرف گئے۔