حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 103 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 103

۹۱،۹۲۔   : بُرے بھلے کی تمیز کرنے کیلئے یہ ایک ابتلاء آیا ہے۔: ہارون بھی رسول نبی تھے اور حضرت موسٰیؑ بھی۔مگر ہارون کے سامنے انہوں نے بُت پرستی کی۔رُعب ایک الہٰی فضل ہوتا ہے۔حضرت موسٰیؑ کا خوف تو ظاہر ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کے آنے تک ہم اسی بات پر جمے رہیں گے مگر ہارون کو تو اس فعل میں شریک گردانتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہارون نے نرمی اختیار کی۔اﷲ تعالیٰ حضرت ہارون کی بَریّت ظاہر فرماتا ہے۔حضرت علیؓ کی نسبت بھی نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا ہے اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی۔چنانچہ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا جیسے ہارون کے ساتھ یریحوؔ کا معاملہ تھا۔ایسا ہی حضرت عثمانؓ کے قتل میں حضرت علیؓ کو شریک گردانا گیا۔مگر آپ کا دامن بالکل پاک تھا۔ان آیات سے مجھے حضرت علیؓ کی بریّت اور حضرت عثمانؓ کے قتل سے بالکل الگ ہونے کا یقین ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۸) ۹۵۔  : بہ نسبت باپ کے ماں میں زیادہ محبت و راحت جوش مارتی ہے۔اس لئے اس سے منسوب کیا تا رحمت کی طرف جھکیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰