حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 102
سامری نے انہیں ہلاک کیا۔(نورا لدّین طبع سوم صفحہ۷۷) ۸۹۔ اَلنَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ: حاکم قوم کا اثر محکوم پر ضرور ہوتا ہے۔مثال کے طور پر بالؔ ہی لو سکھوں کے عہد میں لوگ بڑے بڑے بال رکھتے تھے۔مگر اب قینچی سے ایسے کتراتے ہیں کہ گویا ہیں ہی نہیں۔پھر بھی بعض برداشت نہیں کر سکتے۔اس طرح فرعون اور اس کی قوم گائے پرست تھے۔اسی لئے اس کا تاج گئو مُکھی تھا۔بنی اسرائیل پر بھی اس کا اثر ہوا۔اور اس عظمت کو نکالنے کیلئے حضرت موسٰیؑ کی معرفت حکمِ الہٰی ہوا۔کہ وہ درشنی گائے ذبح کر دو۔(البقرۃ:۶۸) اور اﷲ حکم دیتا ہے کہ گائے ذبح کر دو۔لوگ رسوم کے بہت تابع ہیں۔جتنی دولت مند قوم ہے ان کے نزدیک گئوہتیا حرام ہے۔ہزاروں لاکھوں بکرے ذبح ہوتے ہیں اور شور نہیں مچاتے برخلاف اس کے گائے پر شور پڑتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گائے ذبح کرنے کا رواج عام نہیں کیا گیا۔(بدر ۵؍ اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۲) ۹۰۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض بے جان چیز تھی۔اس میں نفع رسانی یا ایذاء دینے کی کوئی طاقت نہ تھی۔(نورا لدّین (طبع سوم) صفحہ۱۶۹) :۔یہ اس کے معبود ہونے کا ثبوت دیا ہے کہ اﷲ تو وہ ہے جس کے آگے تم تضرّع کرو تو وہ جواب دے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۸) : الہام کے منکر بھی اپنے خدا کو بچھڑا ہی تجویز کرتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۷)