حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 73

پھر بھی عیسائی اپنی بیبیوں کے ساتھ کیسی محبّت کرتے ہیں۔مسلمانوں میں کس قدر تاکید ہے مگر انہوں نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔یہ قرآن مجید کی سخت بے ادبی ہے۔مجھے بہت دُکھ پہنچتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ  (روم : ۲۲ ) ( روم : ۲۲ )کی مطلق پرواہ نہیں کی جاتی۔چونکہ معاشرت میں پہلی بات معاہدہ ہے اس لئے پہلے تو اسے نباہنے کی تاکید فرمائی کہ اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ یعنی لین دین۔بِعْتُ۔اِشْتَرَیْتُ۔زَوَّجْتُ۔تَزَوَّجْتُ ہیں۔یہ سب عقد ہیں۔حتٰی کہ  ( نساء : ۲۲) اگر پوچھو کہ میثاقِ غلیظ کیا ہے۔تو کئی ہیں جن کو اس کا علم ہی نہیں۔بس نکاح میں نوبہار ایک خطبئہ فارسی ہے وہ پڑھ دیں گے۔فرماتا ہے تمام عقود۔قرض لین دین۔بیاہ و دوستی و دیگر معاہدات وفاداری کے ساتھ نبا ہو۔ہمارے ساتھ بھی بعض لوگوں نے عقد باندھا ہے کہ جو بھلی بات کہو گے۔مان لیں گے۔ہم نے تمہیں کئی بھلی باتیں بتائیں۔ان پر عمل چاہیئے۔یاد رکھو کہ اگر لوگ معاہدات پر قائم ہو جائیں تو تمدّن میں بڑا آرام ہو جائے اور کبھی کوئی جھگڑا نہ اُٹھے۔چونکہ کھانا پینا بھی معاشرت میں شامل ہے۔اس لئے فرمایا کہ حلال کھاؤ۔اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ قرآن شریف میں بکری۔بھیڑ دُنبہ۔ہرن۔گائے۔نیل گائے۔اُونٹ کو بَھِیْمَہ کہا گیا ہے۔غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو عبد بنانا چاہا ہے۔تمام وہ اعضاء جو شریعت کے ماتحت رکھے ہیں انکو فرمانبرداری سکھائی ہے۔مثلاً بولنا۔اس کے متعلق حکم جاری کیا کہ لغو مت بکو۔اب ہم کو واجب ہے کہ دیکھیں بولنا مفید ہے یا نہیں۔فرمایا بولو مگر جھوٹ نہ بولو۔لَعْنَۃُ (آل عمران : ۶۲ )جھوٹ نہ بولیں تو پھر کیا کریں۔سچ بولیں مگر پھر یہاں بھی اپنی معبودیت کا رنگ جمایا ہے اور کہا کہ دیکھو۔سچ میں سے بھی ایک سچ منع ہے۔وہ کیا؟ غیبت۔صحابہؓ نے پوچھا کہ کسی میں وہ عیب واقعی ہو تو اس کا تذکرہ تو بُرا نہ ہو گا۔نبی کریم صلّی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔یہی تو غیبت ہے۔اگر وہ عیب واقعی نہیں تو اسکا نام بہتان ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جابجا اپنی عبودیت سکھائی ہے۔پھر سچ ہو۔غیبت نہ ہو۔تو اسکے ساتھ یہ بھی کہا کہ مجاز بولو مگر ایک دو مجاز کی بھی اجازت نہیں۔مثلاًاَنْبَتَ الرَّبِیْعُ الْبَقْلَ(بہار نے سبزی اُگائی)بول سکتے ہیں مگرمُطِرْنَا بِنَوْئٍ کَذَا بولنا منع ہے حالانکہ یہ صحیح ہے کہ جب بُرج آبی میں چاند چلا گیا تو بارش ہوتی ہے۔مگر حکمِ الہٰی آ گیا کہ ایسا کہنا چھوڑ دو تو چھوڑنا پڑا۔اسی طرح جانوروں کے کھانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ہرنی بھی بے شک بکری ہے اور نیل گائے بھی گائے ہے۔حالتِ احرام میں شکار نہ کرو۔وجہ سمجھ نہ آئے تو عام مومن یہی سمجھ لیں۔ اﷲ جو چاہتا ہے حکم