حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 569 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 569

میں کوہِ سینا پر اُتر آئے گا۔اس بناء پر انہوں نیتَاْتِیْ باﷲِ کہا۔اور خروج ۲۳ آیت ۱۰میں ہے ’’ دیکھ میں ایک فرشتہ تیرے آگے بھیجتا ہوں کہ راہ میں تیرا نگہبان ہو اور تجھے اس جگہ جو میں نے تیار کی ہے لے آئے‘‘ اس بناء پر انہوں نے وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیْلًا کہا۔اور خروج کے باب ۱۹ آیت ۳ میں ہے ’’ تب موسٰی خدا پاس چڑھا اور خداوند نے اسے پہاڑ سے بلوایا‘‘ اور باب ۲۰ آیت ۲۱ میں ہے۔تب وہ لوگ دُور ہی کھڑے رہے اور موسٰی کالی بدلی کے جس میں خدا تھا نزدیک آ گیا‘‘ اس لئے انہوں نے اَوْتَرْقٰی فِی السَّمَآئِکہا کہ سماء پر چڑھ جائے اور کتاب لے آئے۔اور چونکہ خروج باب ۱۹ میں ۲ سے ۳ تک اس سماء پر چڑھنے کی حالت میں احکام لانے کا ذکر ہے اس لئے چاہا کہ آپ بھی مثیلِ موسٰی ہونے کے مدعی ہیں۔سماء پر چڑھ کر کتاب لائیں۔تعجب ہے کہ پہلا حکم تو ان کو یہ تھا کہ ’’ میرے حضور تیرے لئے دوسرا خدا نہ ہو۔تو اپنے لئے کوئی صورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر ہو یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے مت بنا‘‘ اسی کو بھول گئے اور چھورڑدیا اور ایسے مطالبے کئے جن سے وہ کچھ فائدہ نہ اٹھائیں۔اب دیکھئے ۱۔موسٰیؑ تو اپنی قوم کو وعدہ کی زمین نہ پہنچا سکے اور انکی قوم کو بجائے چشمے اور نہروں کے ایک جنگل میں ۴۰ سال خراب ہونا پڑا۔مگر حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی قوم اس زمین میں پہنچی جس میں چشمے اور انہار اور باغات تھے۔کیا وہ جنّات عدن نہیں جن میں جیحوں اور سیحوں بہتے ہیں۔دجلہ اور فرات ہیں۔نیل ہے۔بنی اسرائیل کی اراضی کی ان سر زمینوں کے سامنے کیا حقیقت ہے جن میں امّتِ محمدیہؐ پہنچی۔۲۔کیا اﷲ نے اپنے رسولؐ کی حفاظت نہ فرمائی۔ٹھیک اس وقت جب آپؐ مکّہ سے نکلے۔کیا آپؐ کو مدینہ میں نہ پہنچایا۔۳۔کیا فرشتے آپؐ کی نُصرت کو نازل نہ ہوئے اور کیا مواطن کثیرہ میں آپؐ کے صدق کی شہادت بذریعہ ملائکہ نہ دی گئی۔یہاں تک کہ عراقین۔شام۔مصر فتح ہو گئے جن کو بنو اسرائیل نہ کر سکے۔کیا فرشتے بدر۔جنین اور احزاب میں نازل نہ ہوئے۔۴۔کیا آپؐ کے اور آپؐ کے صحابہؓ کے ہاتھ میں کتاب نہیں۔جسے پڑھتے ہیں۔کیا یہ کتاب