حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 490 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 490

۷۶،۷۷۔      : ان مثالوں میں مشرکینِ عرَب کو سمجھایا ہے کہ تم بھی ہو۔اور ایک طرف حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم اور انکی جماعت ہے۔ان میں خدا تعالیٰ کی تعظیم کا کام کون کر رہا ہے اور مخلوق کی بہتری کی فکر کس کو ہے۔صاف ظاہر ہے کہ جناب رسالتِ آب۔خدا نے زبان اور استطاعت دونوں فریق کو دی۔مگر ایک گروہ ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔اور دوسرا ہے جو مال و جان نثار کر رہا ہے۔خدا کے حضور وہی عزّت پائے گا جو کام کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس میں حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے انتخاب کی وجہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنے مولیٰ کا کارکن۔جاں نثار۔آمر بالعدل۔صالح العمل بندہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) اس آیت کی ابتداء میں حضرت حق سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنی ہستی۔اپنی توحید۔اپنے اسماء۔اپنے محامد اور لا انتہاء عجائباتِ قدرت کا اظہار فرمایا ہے اور بعد اس بیان کے جو درحقیقتلَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲَ کے معنوں کا بیان ہے۔اسکے دوسرے جُزو مُحَمَّدٌ رَّسُوْل اﷲ پر بحث کی ہے۔اور بیان کیا ہے کہ کیوں خدا کی طرف سے کوئی مامور ہو کر آتا ہے اور اس کا کیا کام ہوتا ہے۔پھر اس آیت میں بتایا ہے کہ جو شخص مامور من اﷲ اور حجۃ اﷲ ہو کر آتے ہیں وہ بلحاظ زمانہ۔بلحاظ مکان۔عین ضرورت کے وقت آتے ہیں۔اور انکی شناخت کیلئے وہی نشانات ہیں جو اس آیت میں بیان کئے جاتے ہیں۔وہ کیا کام کرتے ہیں۔ان پر کیا اعتراض ہوتے ہیں۔دوسروں کی نسبت اس میں کیا خصوصیت ہوتی ہے۔ان دو آیتوں میں انہی باتوں کا تذکرہ ہے۔ان میں سے پہلی آیتِ شریفہ کا ترجمہ یہ ہے مگر ترجمہ سے پیشتر یہ یاد رکھو کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے انسان کو ممتاز بنایا ہے اور پھر انسانوں میں سے کچھ لائق اور بعض نالائق ہوتے ہیں۔اور اس طرح پر ان میں ایک امتیاز قائم کرتا ہے غرض نبوّت کی ضرورت اور اس کے اصول کے سمجھنے کیلئے اﷲ تعالیٰ اسی آیت میں ایک نہایت ہی عجیب بات سناتا ہے۔