حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 480 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 480

: اچھی بات کوبھی بُرا ادمی گندے معنوں میں لے لتیا ہے۔سیدھی بات تو یہ تھی کہ جیسی خدا کی مشیّت مجبور کر کے مُسلمان نہیں بناتی۔اسی طرح وہ مشیّت مجبور کر کے مُشرک بھی نہیں بناتی۔مگر وہ ایک شِق کو لیتے ہیں جس سے خدا پر الزام آئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۳۸۔  : ایسے انسان جن کے بدعملوں کا نتیجہ ہی یہی ہے کہ خدا کی طرف سے اضلال ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۴۱۔ کے معنے ہو جا۔کے معنے ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ کسی چیز کے وجُود کو چاہتا ہے۔اسی طرح وہ چیز ظہور میں آ جاتی ہے… کا تعلّق بعد الموت ہوا کرتا ہے۔تمام قرآن کریم میں مرنے کے بعد جی اٹھنے پر  فرمایا ہے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم ۹۲) ۴۲۔  مکّہ میں مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔صرف مالوںکا ہی فکر نہ تھا بلکہ جانوں کا بھی۔ایسے وقت میں حضرت حق سبحانہ، وحی فرماتے ہیں کہ لوگ مہاجر ہوں گے۔اور پھر مظفر و منصور ہوں گے۔شیعہ قوم بھی غور کرے جو مہاجرین کی معائب شماری اپنا فرض سمجھتی ہے۔یاد رکھو جو کچھ اﷲ کیلئے چھوڑتا ہے وہ دنیا میں بھی اس کا بدلہ پاتا ہے۔