حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 462 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 462

مَیں نے ایک ہندو ریاست کے ایک بڑے بااختیار پنڈت سے سوال کیا کہ مساوی الاستعداد مگر مدّت کے امیدوار فتح محمد اور نئے امیدوار فتح چند کیلئے آپ کے محکمہ میں اگر موقع پرورش ہو تو آپ کس کو مقرر کریں گے۔کہا فتح چند کو۔میں نے کہا آپ تو بدھ مذہب کے آدمی ہیں اور آپ نے ہنوز دریافت بھی نہیں کی کہ فتح چند بدھ مذہب کا آدمی بھی ہے یا نہیں۔کہا۔مولوی صاحب! ہماری بچپن کی تعلیم ہمیں ایسے سبق سکھا چکی ہے کہ بہتر ہے کہ آپ اس بحث کو ختم کر دیں۔اس قسم کی صدہا نظیریں اور واقعات ہیں جو دانشمند کو کافی سبق سکھاتے ہیں۔غرض یہ مسلّم امر ہے کہ الہٰی فرمان پاک لوگوں کے مفید کلماتِ۔نورِ قلب۔عقل۔نظارۂ قدرت۔تجربہ صحیحہ اور بدی کی خطرناک سزائیں موجود ہیں۔مگر شریر کا شرارت سے باز آنا کوسوں بلکہ بمراحل دُور ہے۔اس جنگ کو ستیارتھ پرکاش میں دیانند نے بھی مانا ہے اور اس کا دیواُسر سنگرام نام رکھا ہے ( یعنی اچھے اور بُروں کی جنگ) غرض نور و ظلمت۔نورانی و ظلماتی۔صدق و کذب کا یُدھ ہے۔ابلیس و شیطان وہی ظلمت اور شرارت ہے یا یوں سمجھو کہ ظالم و شریر۔کاذب جاہل اور تاریکی کے فرزند کے القاب ہیں۔اﷲ تعالیٰ اپنے علمِ کامل۔رحمت، قدرت اور تصرّف سے ہر جگہ موجود ہے اور شریر جس قدر بکواس کرتا ہے وہ سب خدا کے سامنے کرتا ہے۔اور رُو در رُو کرتا ہے کہ گویا اس سے بالمشافہ جنگ کرتا ہے۔… قَالَ کے لفظ سے یہ سمجھنا کہ شیطان نے خدا سے بالمشافہ مکالمہ کیا۔سخت غلط بات ہے قرآن کریم میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا کے مکالمہ سے وہی لوگ شرف اندوز ہوتے ہیں جو خدا کی نگاہ میں پاک و صاف ہوتے ہیں۔پھر شیطان جیسی نجس ذات کا یہ رُتبہ کہاں کہ اسے خدا کی ہمکلامی کی عزّت ملے؟ سارے قرآن میں کَلَّمَ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا کا کوئی صیغہ شیطان کے کلام کے بارہ میں مذکور نہیں ہوا۔اصل بات یہ ہے کہ لفظ قَالَ عربی کی زبان میں ہر ایک بات اور کام اور اشارہ اور زبانِ حال پر بولا جاتا ہے۔چنانچہ عربی کی لُغت میں لکھا ہے۔