حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 461
چونکہ انسان بڑے درجات کا طالب تھا۔اور بغیر صدق و صفا انعام نہیں مل سکتا۔اس واسطے دو محرّک نیکی و بدی کے یعنی فرشتہ اور شیطان پیدا کئے۔قانونِ قدرت اس بات پر دلالت کرتا ہے۔سب لوگ اپنے نفس میں دو محرّک محسوس کرتے ہیں۔قاتل پہلے قتل کرتا بھی ہے اور پچھتاتا بھی۔پس واقعی فرشتہ و شیطان کا وجود عالم میں ہے۔اگر وید کامل ہے تو اس میں ضرور یہ فلسفہ ہو گا۔فرق الفاظ میں ہو تو کوئی بات نہیں۔وَلِکُلٍّ اَنْ یَّصْطَلِحَ: ان محرکات کی اصلاح تم میں کیا ہے۔بتاؤ اور کھول کر بتاؤ۔اِفْسَاد کا مقابلہ ایک واقعی اور صحیح بات ہے۔کیمسٹری کی شہادت۔مرکباتِ عالم بلکہ بسائط کی نسبت اگر نہ لیں تو بھی لطیف و کثیف کا سنگرام ( جنگ)۔سعید و شقی۔سر پشٹ و دیسیو۔مومن و کافر۔دیو وامر کا یُدھ کوئی مخفی راز نہیں۔اﷲ تعالیٰ ہدایت کیلئے اپنا کلام نازل فرماتا ہے۔بایں ہمہ ایک عالم اس کے مقابلہ کیلئے بھی اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔تو اپنی جگہ دیکھ لو۔ویدؔ جسے تم کلامِ الہٰی مانتے اور قدامت کو اس کی سچائی کی بڑی دلیل بتاتے ہو۔ہندوستان کے فرزندوں نے اس کے مقابلہ کیلئے ہتھیار نکالے اور اسے ردّ کیا۔اور اسکی قدامت اور صداقت کے ابطال کی غرض سے تمہارے بھائی جینی اپنے نوشتوں اور ہادیوں کی اتنی لمبی مدّت بیان کرتے ہیں کہ اس کے مقابل ریاضی دان بھی حیران ہو جاتے ہیں اور مجوس اپنی کتابوں کی مدّتِ قدامت کے بیان کرنے میں مہاں سَنکھ کے آگے اور سترہ صفر بڑھاتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جنگ اور مقابلہ اس عالم میں طبعی امر کی طرح ہمیشہ سے قائم چلا آتا ہے۔اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپس میں جنگ تو ایک طرف رہی۔اشرار ہمیشہ خدا سے مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں۔ایک عظیم الشان ناصح خود انسان کے اندر موجود ہے۔مگر اسکے ساتھ بھی وہ مقابلہ ہے کہ الامان الامان۔تھوڑی دیر کچہریوں میں عبرتًا دیکھیں بازار کے لین دین کو وید کی بصیرت سے مطالعہ کریں لیکچروں کی لفّاظیاں اور اس کے ساتھ عملدر آمد غور سے ملاحظہ کریں۔محکمہ جات میں کم سے کم ان لوگوں کی عملی کارروائیوں کو دیکھیں کہ جن کی تمام تعلیم اہنساپرموں دھرما ( رحم ہی اعلیٰ مذہب سے) اور بایں ہمہ ایک جانور ( گائے) کی لفظی حفاظت کی ٹھیکیداری کے بھیس میں اپنے خیال کے مخالفوں غریبوں بے کسوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کرتے ہیں۔