حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 452
صاف معاملہ کہ جب تک خدائی پیغام نہیں پہنچایا۔سب آپؐ کو صادق و امین سمجھتے تھے۔(انعام:۳۴)بادشاہوں کے ساتھ ایسے اچھے تعلق کہ آپؐ کے مُریدوں نے حبشہ میں کس امن سے زندگی گزاری۔اور خود مکّہ کے شرانگیز رئیسوں میں کیسے مامون رہے۔اور پھر خدا سے ایسا تعلق کہ قرآن شریف جیسی خاتم الکتب کی وحی کے مہبَط ہوئے کیا ایسا شخص مجنون ہو سکتا ہے۔جو تمام مدبّرانِ ملک کی تجویزوں اور تدبیروں کے مقابلہ میں اکیلا کامیاب ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۹۔ : چنانچہ جب فرشتے آئے تو کفّار کو نہ بدر میں مہلت ملی نہ کسی اور غزوہ میں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۱۰۔ : فرشتوں کا ایک ثبوت دیا ہے۔کہ دیکھو یہ کتاب ہے۔اس کی حفاظت اخیر زمانہ تک فرشتے کریں گے۔تم اس کے خلاف کوئی غلطی تو ثابت کر دو۔سائنس نے کس قدر ترقی کی۔تاریخ کی کیسی چھان بین ہوئی۔مگر قرآن شریف کی کوئی بات جھوٹی نہ ہو سکی۔سچ فرمایا لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ (حٰمٰ السجدہ:۴۲) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) : ذکر رسول کو بھی کہتے ہیں۔: مارنے والوں نے عین شوکتِ اسلام میں حضرت عمرؓ و علیؓ و عثمانؓ کو شہید کر دیا۔مگر عین کمزوری کے ایّام میں ایک رسولؐ اﷲ کے مقابلہ میں اتنے مخالف کچھ نہ کر سکے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ