حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 425
۳۹۔ بعض لوگ اس خیال کے تھے کہ دنیا سے تعلّقات نہیں چاہئیں۔تعلّق محض حضرت سبحانہ، سے چاہیئے ایسے لوگ اس زمانہ میں بھی پائے جاتے ہیں جن کو سادھو داسی وغیرہ کہتے ہیں۔ان کے جواب میں فرماتا ہے کیونکہ اسلام جامع کمالات مذاہب مختلفہ ہے۔اس نکتہ کو نہ سمجھ کر ہر فرقہ نے اپنے اپنے مذاق کے رُو سے اس پر اعتراض کرنے میں غلطی کھائی ہے۔اگر بیابانوں میں رہنے والوں نے ازواج اور ذرّیت کو بُرا منایا تو دنیاداروں کو یہ اعتراض تھا کہ ذکر و شغل کے لئے اتنا وقت کیوں ہو۔اسی طرح صحابہ کرامؓ جہاد کے متعلق تلوار و تِیر کو درست کرتے رہتے۔جس کو بعض فقراء ( جو مُرغے کو ذبح کرنا بھی نہیں دیکھ سکتے) دیکھ کر حیران رہ جاویں۔اسلام نے ایک درمیانی راہ اختیار کی اور سب باتوں کو لے کر اسی کی اصلاح فرما دی۔: جواب یوں دیا ہے۔کہ سب انبیائؑ کی بیبیاں اور اولاد تھی۔اس نبی میں نئی بات نہیں۔کوئی شخص جب تک گھر والا نہ ہو تمام کمالاتِ انسانیہ کا مظہر نہیں ہو سکتا اور نہ تمام خلقت کیلئے نمونہ بن سکتا ہے۔پس ضرور تھا کہ راست بازوں کی جماعت بیوی بچّوں والی ہوتی۔جن لوگوں نے تقدّس و تطہرّ کے لئے نکاح سے علیحدگی لازم ٹھہرائی۔آخر سخت سے سخت بدکاریوں میں گرفتار ہوئے۔ہاں یہ صحیح ہے کہ بیوی بچّوں میں اتنا انہماک کہ خدا کو بھول جاوے ناجائز ہے۔: ہر شخص کو نشان دکھانا ضروری نہیں۔بعض تو بیعت ہی اس معیار پر کرتے ہیں کہ بیعت کے بعد آسائش ہو جاوے اور ہر ایک مُراد پوری ہوتی جائے۔جو ذرا بھی خلافِ مرضی ہوا تو بس کہہ دیں گے دیکھ لیا۔ (الحج:۱۲) : ہر وقت کیلئے ایک قانون ہے۔اسی کے ماتحت سب مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۶؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۰۔