حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 361

: ایک معنی یہ ہیں۔اسی لئے ہم ہنسی کرتے ہیں کہ تم بھی ہنسی کرتے ہو۔یا یہ معنے کہ ہم اتنی ہنسی کریں گے جتنی تم کرتے رہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) جب… لوگ گھبرا اُٹھتے ہیں اور لوگوں کو دینِ الہٰی کی طرف رجوع کرتا ہوا پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی مخالفتیں اور عداوتیں مامور کے حوصلے اور ہمّت کو پست نہیں کر سکتی ہیں۔اور وہ ہر آئے دن بڑھ بڑھ کر اپنی تبلیغ کرتا ہے۔اور نہیں تھکتا اور درماندہ نہیں ہوتا۔اور اپنی کامیابی اور مخالفوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں کرتا ہے۔جیسے نوح علیہ السلام نے کہا کہ تم غرق ہو جاؤ گے اور خدا کے حکم سے کشتی بنانے لگے تو وہ اس پر ہنسی کرتے تھے۔نوحؑ نے کیا کہا؟۔اگر تم ہنسی کرتے ہو تو ہم بھی ہنسی کرتے ہیں اور تمہیں انجام کا پتہ لگ جاوے گا کہ گندے مقابلہ کا کیا نتیجہ ہوا۔اسی طرح پر فرعون نے موسٰیؑ کی تبلیغ سن کر کہاقَوْمُھَالَنَا عَابِدُوْنَ۔انکی قوم تو ہماری غلام رہی ہے۔(زخرف:۵۳) یہ کمینہ ہے اور بولنے کی مقدرت نہیں۔اور ایسا کہا کہ خدا کی طرف سے آیا ہے تو کیوں اس کو سونے کے کَڑے اور خلعت اپنی سرکار سے نہیں ملا۔غرض یہ لوگ اسی قسم کے اعتراض کرتے جاتے ہیں۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۶) ۴۱۔   : اس کے پانچ معنی ہیں۔(۱) تنور کے معنے وجہ الارض زمین کا اُوپر لا حصّہ۔(۲) اونچی جگہ یعنی اونچی جگہوں کے چشمے پھوٹ نکلے۔(۳) اس گڑھے کو کہتے ہیں جس میں لوگ روٹیاں پکاتے ہیں۔یعنی وہاں بھی پانی بہہ نکلا۔(۴) پَو پھوٹنے کا وقت آ گیا نوح کی قوم پر۔عذاب سحری کا آیا تھا۔(۵) اونچے محلّوں پر پانی حملہ آور ہوا۔: بہت روایتوں میں مَیں نے پڑھا ہے کہ ۸۰ سے زیادہ نہ تھے۔یہ مثال یاد رکھنے کے قابل ہے۔یہاں ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا ہے جو تمہارے نفع کیلئے تمہیں سناتا ہوں۔سفر میں ایک شخص نے حضرت صاحب کے متعلق مجھ سے تین سوال کئے۔ایک ان میں سے اس سبق کے ساتھ تعلّق رکھتا ہے۔وہ یہ کہ ایک