حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 342 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 342

خلاف کچھ دکھاؤ! اور نسخ بمعنے ابطال حکم بھی۔قرآن کریم میں قطعًا نہیں! کیا معنی؟ قرآن کریم میں کوئی ایسا حکم موجود نہیں جس پر کسی زمانہ میں تو ہم کو عملدر آمد کرنا ضرور تھا اور اب اس پر عملدر آمد کرنا کسی طرح جائز نہ ہو بلکہ قطعًا موجود نہیں۔اسی طرح ایسی آیت بھی نہیں اور قطعًا قرآن کریم میں نہیں کہ جس میں لکھا ہو۔سراب حلال ہے تو پیار کرو۔ہاں یہ بات ہے کہ شراب پہلے ہی حرام کیوں نہ کیا۔دیر کے بعد کیوں حرام کیا۔مگر اس میں نسخ کس حکم موجود فی القرآن کا ہوا؟ نزولِ ارشادات آخر بتدریج ہوا کرتا ہے۔کیا وید کے تمام احکام بلا کسی ترتیب کے یکدم رشیوں نے سمجھے تھے؟ نہیں اور ہرگز نہیں! آپ تو کہتے ہیں کہ محقّق کتنے احکام نکال سکتا ہے کہ پہلے جائز کئے پھر ممنوع۔ہاں مجھے تو کوئی آیت ایسی معلوم نہیں جس سے یہ پایا جائے کہ فلاں حکم جائز یا ضرور ہے۔پھر بعینہٖ اسی حکم کو کہا گیا ہو کہ یہ حکم ممنوع ہے۔نہیں۔نہیں!! اور ہرگز نہیں! ہم کو ہمارے قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ فلاں حکم جو فلاں آیت میں ہے اب قطعًا منسوخ ہو گیا۔ہمارے ہادی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ فلاں حکمِ قرآن اب منسوخ ہے۔آپؐ کے پاک جانشینوں ابوبکرؓ و عمرؓ … نے بھی نہیں فرمایا کہ فلاں حکمِ قرآنی اب منسوخ ہے۔اس پر بالکل عمل درست نہیں! نسخ کے معنے اگر ابطالِ حکم کے ہیں کہ قرآن میں ایک حکم موجود ہوا اور وہ منسوخ ہو گیا ہو تو ایسا حکم بھی مجھے ہرگز معلوم نہیں! اگر کسی کو اس کے خلاف دعوٰی ہو تو ثبوت دے! قرآن کریم حسبِ ارشادِ الہٰی اِکمال کیلئے آیا ہے۔جیسے اﷲ نے فرمایااَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (مائدہ:۴) پس وہ حقائقِ ثابتہ کے ابطال کیلئے نہیں آیا۔بلکہ اثباتِ حقائق کی ختم اکُتُب ہے !! (نور الدّین صفحہ ۲۴۷۔۲۴۸) ۶۶۔  : ُمخاطبین عجیب عجیب طرح سے حقارت کے کلمات بولتے ہیں۔مگر آخر سب جھوٹے نکلتے ہیں۔نوحؑ کے ساتھیوں کو کہا گیاھُمْ انرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ (ھود:۲۸)