حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 314
: صدق عربی زبان میں ایسا لفظ ہے کہ ہر صحیح اور امرِ واقعہ پر بولا جاتا ہے۔چور کو پکڑتے ہیں تو کہتے ہیں۔الکذب الکذب۔عمدہ تلوار کو بھی صدق ہی کہتے ہیں۔اَخُوْثِقَۃٍ۔اَخُوْصِدْقٍ۔سچّے علوم کے مطابق عمل درآمد کا نام ہے صدق۔راست بازوں کے ساتھ ہو جانا ایک کارِ اہم ہے اور بڑی بھاری قربانی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍نومبر ۱۹۰۹ء) اے مومنو! ڈرو تم اﷲ سے اور ہو تم ساتھ سچّوں کے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۷۷) عالمِ ربّانی کے لئے ضرورت ہے کہ تقوٰی سے کام لے اور تقوٰی کی حقیقت اس وقت تک کُھل نہیں سکتی جب تک خدا تعالیٰ کے صادق اور مامور بندوں کی صحبت میں نے رہے۔جیسا فرمایا ہے۔۔اس سے معیتِ صادق کی بہت ضرورت معلوم ہوتی ہے اور فی الحقیقت ضرورت ہے۔لیکن چونکہ ساری قوم ایک وقت میں اپنے امام کے گرد نہیں رہ سکتی اور اگر ہر فرد قوم کا حاضر بھی ہو تو ہر ایک فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔طبیعتیں جُدا جُدا ہیں اور مذاق الگ الگ، اور تقسیمِ محنت کا اصول