حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 311
انسان کی حقیقی خواہش کیا ہے۔آرام۔روپیہ کمانا۔جتّھا۔حکّام سے تعلق چاہنا۔عمدہ مکان بنانا۔غرض تمام کوششیں اسی آرام کے حصول کیلئے ہیں۔طبّ۔طبعیات۔سب علوم بھی اسی لئے ہیں۔پھر لوگ آرام بھی بے انت زمانہ کیلئے چاہتے ہیں۔اس کیلئے چاہتے ہیں۔اس کیلئے اس رکوع میں ایک گُر بتایا ہے۔: اﷲ کے لفظ کا ترجمہ کوئی زبان برداشت نہیں کر سکتی۔عرب کسی معبود پر سوا خدا تعالیٰ کی ذات کے یہ لفظ نہیں بولتے تھے حتّٰی کہ ان کے زمانۂ جاہلیت کے قصائد میں کہیں یہ لفظ کسی بُت یا محبوب پر نہیں آیا۔سارے قرآن شریف میں اﷲ کو موصوف قرار دیا ہے۔کہیں بھی صفت ہو کر نہیں آیا جس سے ظاہر ہے کہ اور جتنے کام ہیں وہ اسکی تفصیل و تشریح میں ہیں۔: عربی میں نفس کے دو معنی ہیں۔ایک وہ جو انسان کی جان ہے۔جس سے رُوح غلط مراد لیتے ہیں۔دوسرے معنے ان میں سے۔: اس بات کو خوب سمجھ لو کہ مال و جان مومن کا جنابِ الہٰی کا ملک ہو چکا ہے۔پس اس پر مومن کا اپنا کوئی حق نہیں۔سب کچھ خدا کے حکم کے ماتحت رکھنا چاہیئے۔: بہشت۔آرامگاہ۔انبیاء کے جس قدر اوامر ہیں۔اگر انسان ان پر چلے تو وہ دنیا میں بلحاظ طبّ بھی آرام سے رہتا ہے کوئی خطرناک موذی مرض اوامر الہٰی کے اتباع سے پیدا نہیں ہوتی۔: وعدے دو قسم کے ہوتے ہیں۔کئی وعدے اور ترقی پا جاتے ہیں اس لئے ان کا ایفاء اور کسی رنگ میں ہوتا ہے اسی لئے یہاںحَقًّا لگایا ہے کہ اسی طرح پورا ہو گا۔: تورات میں ایک جگہ آیا ہے کہ تو اپنے مال کو وہاں نہ رکھ جہاں چور کاڈر ہو۔تُو اسے آسمان پر رکھ۔: انجیل میں صاف ہے کہ اُونٹ کا سوئی کے ناکہ سے گزرنا آسان ہے۔مگر دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی نام لیوا اُمّت اپنی تمام ہمّت کو مال کے جمع کرنے میں صرف کر رہی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۸؍نومبر ۱۹۰۹ء) : توریت کتاب استثناء۔متی باب ۶ آیت ۱۹۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۸)