حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 292
حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور چند آدمی عُذر کرنے آئے کہ ہم غزوۂ تبوک میں جا نہیں سکتے۔انبیاء کی طبیعت میں رحم ہوتا ہے۔فرمایا۔اچھا۔: اﷲ تعالیٰ ناراض نہیں بلکہ محبّت سے فرماتا ہے۔تم بڑے در گزر کرنے والے ہو۔اﷲ نے بھی تم سے درگزر کی۔: اس سے ظاہر ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی حکم کے خلاف کاروائی نہ کی تھی۔چنانچہ پارہ ۱۸ نورؔ کے آخری رکوع میں فرمایا۔ (نور:۶۳) اس سے معلوم ہوا کہ اذن مانگنا مومن کا کام ہے۔یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اذن لینا کفّارہ کا کام ہے۔یہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف مواقع پر مبنی ہے یہاں اذن مانگنے والوں کے جھوٹ کا ثبوت دیتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۴۵۔ : اس وقت جو اجازت مانگتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر ۹صفحہ۴۵۷) ۴۸۔ : تیری باتوں کو زیر و زبر کرنے کی کوشش۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۴۹۔