حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 27
اﷲ یہ نہیں بخستا کہ اُسکا شریک ٹھہرائے اور بخشتاہے اس سے نیچے جس کو چاہے اور جس نے ٹھہرایا شریک اﷲ کا اُس نے بڑا طوفان باندھا۔(فصل الخطاب حصہ دوم صفحہ ۳۰) قرآن بیان کرتا ہے۔گناہ تین قسم کے ہوتے ہیں اوّل شرک دومؔ کبائر سومؔ صغائر۔شرک کی نسبت قرآن کریم فیصلہ دیتا ہے کہ وہ ہرگز بد وں توبہ معاف نہ ہو گا۔اسکی سزا بھگتنی ضرور ہے۔: انجیل بھی باایں کہ بڑی بشارت اور بشیر ہے۔فرماتی ہے ’’ رُوح کے خلاف کُفر معاف نہ ہو گا ‘‘ (متی باب۱۲:۳۱) دوسری قسم گناہوں کی وہ کبائر اور بڑے بڑے گناہ جو شرک کے نیچے ہیں اور صغائر یا مبادی کبائر سے اوپر۔اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ ہر ایک کبیر اور بڑے گناہ کی ابتداء میں چھوٹے چھوٹے گناہ جو اس کبیرہ سے کم ہوتے ہیں۔مثلاً جو شخص زنا کا مرتکب ہوا۔ضرور ہے کہ ارتکابِ زنا سے پہلے وہ اُس نظر بازی کا مرتکب ہو جس سے زنا کے ارتکاب تک نَوبت پہنچی۔یا ابتدائً وہ باتیں سُنیں جن کے باعث اُس بدکاری کے ارتکاب تک اُس زنا کنندہ کی نَوبت پہنچی۔ایسے ہی ان باتوں کا ارتکاب جن کے وسیلے سے اس کو وہ شخص ملا جس سے زانی نے زنا کیا اور بالکل ظاہر ہے کہ ان ابتدائی کارروائیوں کی بُرائی سے ضرور کمی پر ہے۔ایسے کبائر اور بڑے گناہوں کی نسبت قرآن کریم فرمایا ہے۔: (النّساء:۳۲) اگر تم بچتے رہو گے بُری چیزوں سے جو تم کو منع ہوئیں تو ہم اُتار دیں گے تم سے تقصیر یں تمہاری۔کیا معنی۔جن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے تم لوگ منع کئے گئے اگر ان بڑے گناہوں سے بچے رہو تو ان کے مبادی اور ان کے حصول کی ابتدائی کارروائی صرف ان بڑے گناہوں سے بچے رہنے کے باعث معاف ہو سکتی ہے۔مثلاً کسی شخص نے کسی ایسی عورت سے جماع کرنا چاہا۔جو اس کے نکاح میں نہیں ہے اور اس عورت کے بُلانے پر کسی کو ترغیب دی یا کچھ مال خرچ کیا اور اُسے خالی مکان میں لایا اور اُسے دیکھا بلکہ اس کا بوسہ بھی لے لیا۔لیکن جب وہ دونوں برضا و رغبت بُرائی کے مرتکب ہونے لگے۔اور کوئی چیز روک اور بدکاری کی مانع وہاں نہ رہی۔اور اس بد کارروائی کا آخری بد نتیجہ بھی ظاہر نہ ہوا تھا۔کہ اس زانی کے ایمان نے آ کر اسے زنا سے روک دیا اب یہ شخص یا ایں کہ مال خرچ کر چکا ہے یا ثانی کی رضامندی پا چکا۔صرف ایمان کے باعث ہاں ایمان ہی کے باعث اور خدا سے باہمہ وسعت و طاقت اس بڑی بُرائی کے ارتکاب سے ہٹ گیا۔اور اسکا مرتکب نہ ہوا۔توصرف اسی اجتناب سے اس کی ابتدائی کا رروائیاں جو حقیقت میں مبادی گناہ اور گناہ کی محرّک تھیں معاف ہو جائیں گی۔کیونکہ اسکا ایمان بڑا تھا جس نے آخری حالت میں خدا کے فضل سے دستگیری کی۔اور تیسری قسم گناہ کی