حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 273
: ایک ہوتا ہے حثّ۔یہ نرم لفظ ہوتا ہے۔اس کے معنے ہیں ترغیب۔دوسراؔ لفظ ہے حصََّّ۔تیسراؔ لفظ ہے حَضَّ۔چوتھاؔ لفظ حَرَّضَجس میں ان تینوں کے اور ۱؎ اور بھی ہے۔اسکا ترجمہ اردو یا پنجابی کا تنہا لفظ برداشت نہیں کر سکتا۔کو اس لئے کہا ہے کہ مومن ہمیشہ اﷲ کو اپنا کارساز سمجھتا ہے اور اسی پر ہر ۱؎ یعنی مزید! مزید!!۔مرتّب حال میں بھروسہ کرتا ہے۔صوفیوں میں ایک بحث ہے کہ تفویض اعلیٰ ہے یا توکیل۔بعض کہتے ہیں کہ تفویض اعلیٰ ہے کیونکہ اس میں سب کچھ سپرد کر دیا جاتا ہے۔: کفّار کا اﷲ پر بھروسہ نہیں ہوتا۔اﷲ سے دُعا نہیں کرتے۔اﷲ کتاب کے ساتھ تمسّک نہیں۔ان سے اﷲ کے کسی بندے کی تائید و نصرت نہیں ہوتی اس لئے وہہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۶۷۔ : موجودہ حالات میں چونکہ تم روحانی ترقیات کیلئے اعلیٰ مدارج پر نہیں پہنچے۔جنگ کا تجربہ نہیں اس لئے ایک دو کے مقابلہ میں فتحیاب ہوں گے۔مومن ہر روز ایک ترقی کرتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء) : یعنی ایک زمانہ ایسا آئے گا اور فی الحال جو تم میں ضعف ہے تو سو دو سو کے مقابلہ میں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۷) ۶۸۔