حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 199
حضرت آدم شیطان کی ناراستی اور قسم پر دھوکا کھا جاتے تو ممکن تھا کیونکہ نیکوں کے نیک گمان ہوتے ہیں۔نیک آدمی فریبیوں کی باتوں پر اپنے گمان کے سبب غلطی کھا سکتے ہیں۔شیطان نے تو حضرت آدم سے قسم کھائی تھی جیسے آیت ذیل سے ظاہر ہے۔اُن سے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہار خیر خواہ ہوں۔پھر انہیں دھوکے کی راہ دکھائی۔مگرحضرت آدم نے شیطان کے کہنے پر عمل نہیں کیا اور نہ شیطان کے دھوکے میں آئے۔ہاں جب آدم درخت ممنوع کی ممانعت بھول گئے جیسے عنقریب آتا ہے اور اس درخت کو استعمال کر چکے تو اس نسیان اور عدمِ حزم اور عدمِ احتیاط کے باعث اس ملک کے قیام سے روکے گئے جہاں مقیم تھے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۲۶) ۲۴۔ حضرت آدم علیہ السلام نے… اپنی کمزوری اور نقصان زدہ ہونے کا اقرار کیا اور خدا کی کمزوریوں سے محفوظ رکھنے والی اور نیک اعمال پر پاک نتائج مرتب کرنیوالی صفت سے استمداد کیا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۱ صفحہ ۳۴) انسان کو چاہئیے یہ دعا کرے۔اپنا منعم علیہ بنا لے مگر ان انعام کئے گیوں سے کہ جن پر تیرا نہ غضب کیا گیا۔نہ وہ بھولے بھٹکے۔قرآن کی انتہاء دعا پر ہے۔۔اوّل البشر آدمؑ نے بھی دعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا۔ہمارے نبیؐ کا آخری کلام بھی دعا ہے۔اَلْحِقْنِیْ بِالرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔جو لوگ دعا کے ہتھیار سے کام نہیں لیتے۔وہ بد قسمت ہیں۔امام کی معرفت سے جو لوگ محروم ہیں وہ بھی دراصل دعاؤں سے بے خبر ہیں۔(بدر ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۱۰) ۲۶۔ میں نے اپنے زمانہ میں میرزا غلام احمد صاحب کو دیکھا۔سچا پایا اور بہت ہی راستباز تھا۔جو بات اس کے دل میں نہیں ہوتی تھی وہ نہیں منواتا تھا۔اس نے ہی ہم کو بھی حکم دیا کہ قرآن پڑھو اور اس پر عمل