حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 189 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 189

: لادُو جانور ۱۔جو سواری کے قابل ہیں ۲۔باربرداری کے لائق ۳۔ہل جوتنے یا کنواں چلانے کیلئے۔: وہ جانور جو چلے اور زمین کو لگے۔مثلاً بھیڑ۔بکری۔خرگوش۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : دُنبے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۳) : پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ بھیڑمیں سے دو۔اور بکریوں میں سے دو۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۳۵) ۱؎ آم۔مرتّب ۲ ؎ مکئی۔مرتّب ۱۴۶۔   : شرفاء میں جو کھائی جاتی ہے۔ان میں کوئی حرام نہیں۔سوائے ۔خون باریک عضو کو ہلاک کرتا ہے اور اس میں زہر ہوتی ہے۔: کیونکہ اس سے شہوت، غضب، الہٰیات سے دُوری ہوتی ہے۔خنزیر خور قوموں کو دیکھ لو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) قرآن مجید میں جس خون کو حرام فرمایا ہے اس کی تفصیل بھی کر دی ہے۔جیسے فرمایا ہے۔ ۔تو کہہ میں اپنی وحی میں کسی کھانے والے پر کوئی شے حرام نہیں پاتا سوائے اس کے مُردار ہو یا گرا ہوا خون ہو۔اگر وِید کو پڑھو۔اس میں بھی تو لکھا ہے کہ خون میں اقسام اقسام کی زہریں ہوتی ہیں جو پیشاب کے ذریعہ خارج ہوتی ہیں۔منجملہ ان کے کار بالک ایسڈ اور ٹومین تو عام مشہور ہیں جن سے فالج یا استرخا