حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 178

ان کے دلوں میں بھی نیکی کی تحریک ہوتی ہے۔اور پھر باوجود اس کے نزولِ ملائکہ نہیں مانتے۔: یہ بھی اکثر لوگوں کو اتفاق ہوتا ہے کہ خواب میں کچھ ہدایت ہوتی ہے۔مُردہ کچھ ان کو بتاتا ہے۔مگر پھر بھی نہیں مانتے۔: ہر بدکار کو کسی نہ کسی سزا کے نیچے دیکھتے ہیں۔مگر پھر بھی عبرت نہیں پکڑتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : مامور من اﷲ کے وقت القاء یا خواب میں مُردوں کے ذریعہ ہدایت کی بات سُنتے ہیں یاد یگر دلائل وَ حجج و نشانات دیکھتے ہیں۔مگر پھر بھی نہیں مانتے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۳) ۱۱۳۔  : ایسے ہی بدکار لوگ پھر بڑھتے بڑھتے انبیاء کے انکار پر کمر باندھ لیتے ہیں۔: بعض اپنے تئیں ظاہر طور پر مقابل کرتے ہیں۔بعض چھُپے رہتے ہیں اور خبیث روحوں کا ان سے تعلق ہو جاتا ہے۔: مُلمّع سازی کی باتیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۳؍ستمبر ۱۹۰۹ء) : اوسط درجے کے لوگ اور اعلیٰ درجے کے لوگ۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۳) : یہ جملہ شرطیہ ہے اور اس کا مطلب صاف ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ایسا کر سکتے۔لیکن باری تعالیٰ نے علی العموم لوگوں کو ہدایت محض اور ضلالت محض پر مجبول نہیں کیا۔اور نہ حکمتِ ایزدی اس امر کی متقاضی ہو سکتی تھی۔یہی معنی اس آیت کے ہیں کہ اگر ہم چاہتے تو وہ شرک نہ کرتے (انعام:۱۰۸) یعنی ان کو ہدایت محض پر مجبول و مخلوق کر دیتے۔(فصل الخطاب ایڈیشن دوم جلد۲ صفحہ۱۶۳)