حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 136
د تشریح کی ہے۔۔: یہاں علماء کی بحث ہے۔بعض کہتے ہیں کہ سُن کر وہ ڈر گئے۔مگر میرے نزدیک یہ دُعا کی گئی اور یقینًا قبول ہوئی۔دیکھتے نہیں عیسٰیؑ کے نام لیووں کے پاس کتنا رزق ہے۔کتنی دولت ہے۔یہاں تک کہ دن میں کئی بار لباس تبدیل کرتے اور نئے سے نئے کھانے کی وجہ سے گویا ہر روزان کے ہاں عید ہوتی ہے۔ کے لفظ کا اثر ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) ۱۱۷۔ میں نے دنیا میں بہت سے حالات دیکھے ہیں۔غریبی، امیری، امیر ہو کر غریب ہونا اور غریب ہو کر پھر امیر ہونا دیکھا۔۴؍۱ ۱ روپیہ ماہوار کی آمدن بھی دیکھی اور ہزارہا روپیہ کی۔دونوں حالات میں خدا کے فضل سے یکساں خوشحال رہا ہوں۔میں نے دیکھا کہ دنیا کوئی بڑی چیز نہیں۔پس بڑے ہی احمق ہیں وہ لوگ جو دنیا کیلئے دین کو برباد کرتے اور موت اور خدا کو بھُلا دیتے ہیں۔انسان اولاد کیلئے یہ دنیا جمع کرتا ہے۔لیکن اگر اولاد نالائق ہے تو اس کے جمع کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔اور اگر لائق ہے تب بھی نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۹؍اگست ۱۹۰۹ء) بلکہ میں نے دیکھا کہ وہ مکانوں کی اینٹیں اکھڑواتے بھی گالی دیتے ہیں کہ بھڑوے نے ایسا سخت مصالحہ لگایا ہے۔جو اُکھڑ بھی نہیں سکتا اور اگر لائق ہے تو اُسے اپنے باپ کی کچھ پرواہ نہیں۔ایک شخص نے بھیرہ میں تین لاکھ روپیہ عمارتوں پر خرچ کیا۔میں نے اس کی اولاد کو دیکھا کہ سات سات فاقے گزرتے ہیں۔پس انسان فانی دنیا کیلئے کیوں خدا کو بھُلا دے اور تکبّر کیوں کرے؟ جس قدر آسودگیاں اور نعمتیں خدا نے دی ہیں ان کی نسبت ضرور سوال ہو گا۔اور تو اَور انبیاء سے بھی باز پُرس ہو گی۔بعض لوگ یُوں کفرانِ نعمت