حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 118 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 118

: یہ پختہ بات ہے کہ جو اﷲ سے شرک کرے۔اﷲ جنّت کو اس پرحرام کر دیتا ہے۔اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۰۱ نیز فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۵) ۷۶۔   مسیح بھی ایک رسول تھا  کیا کوئی رسول اس سے پہلے اﷲ۔ابن اﷲ۔دائمی زندگی والا ہوا ہے۔ہرگز نہیں۔پس ایسا ہی یہ بھی ہے۔جیسے پہلے رسول ہو گزرے یہ مسیحؑ بھی مر چکا۔: اشارہ ہے اس بات کی طرف۔کہ وہ ہگتے اور مُتتے تھے۔کیا ہگنے اور مُوتنے والا خدا ہو سکتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اگست ۱۹۰۹ء) یہود نے نہ عیسٰی کو مارا اور نہ پھانسی دیا بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے مر گئے۔’’ اڑ گئے‘‘ جس لفظ کا ترجمہ ہو سکتا ہے۔وہ لفظ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔قرآن شریف کو سُنو۔وہ کہتا ہے۔مسیح ابن مریم رسول تھا اور اس سے پہلے اس جنس کے رسول سب مر گئے۔اس آیت میں کا لفظ ایسا صاف ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کے جا نشین اوّل نے اس لفظ سے استدلال فرما کر تمام ان صحابہ کرامؓ کو جن کو وفات میں تامل ہوا تھا اپنے نبی کی وفات کا قائل کر دیا چنانچہ وہ آیت جس میں ویسا ہی موجود ہے یہ ہے۔ (آل عمران:۴۵) محمدؐ ایک رسول ہے۔اس سے پہلے رسول مر چکے ہیں۔کیا کوئی شخص ان دونوں آیتوں میں لفظ  کو یکساں دیکھ کر جس کا ترجمہ یہ ہے ’’ مر چکے‘‘ حضرت مسیحؑ اور حضرت محمّد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات میں فرق اور شک کر سکتا ہے۔قرآن کریم کے نزدیک گزشتہ نبیوں کے حالاتِ سر بستہ کے