حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 117

: ہر قوم کو آخر اسلام کی طرف جھکنا پڑتا ہے۔صابی حضرت ابراہیمؑ کو عظیم الشّان مانتے ہیں۔حضرت یحیٰ کو بھی۔وضو کرتے۔نماز قبلہ رُخ ادا کرتے ہیں لیکن محمد رسول اﷲ علیہ وسلم کے ماننے میں تامل ہے۔فرمایا کہ وہ جو اﷲ پر ایمان لاتے اور آخرت پر اور نیک عمل کرتے ہیں ان پر زمانہ آتا ہے۔کہلَا ہونگے۔خوف و حزن سے محفوظ ہوں گے یعنی آخر اسلام غالب آئے گا… دیکھ جو بُتوں کے حامی تھے۔جو اپنی اپنی خود ساختہ روایات کے پابند تھے۔ان کو بُتوں کے کارخانے بگڑنے اور اپنے دین کے کمزور ہو جانے کا کس قدر خوف تھا اور پھر جب سب کچھ تباہ ہو گیا تو کیسا حُزن لاحق ہوا۔عرب کے ملک سے عیسائیت کا اور یہودیت کا خاتمہ ہو گیا۔ایک اسلام والے ہی رہ گئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۲؍اگست ۱۹۰۹ء) ۷۲۔  : رجوع رحمت کیا اﷲ نے۔حضرت محمدؐ رسول اﷲ سا نبی مبعوث کیا۔: پھر بھی نہ حق کے بینار ہے نہ حق کے شنوا۔۷۳۔