حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 103
مونہوں سے کہا۔ہم ایمان لائے۔اور ان کے دل ایمان نہیں لائے۔وہ لوگ کان لگاتے ہیں کہ یہاں سے سُن کر باہر جا کر جھوٹ پھیلائیں۔یا دوسرے مخالفوں کی بھی مان لیتے ہیں جو ابھی تیرے پاس نہیں آئے۔ٹٍیک موقعوں سے بات کو اُلٹ پلٹ کر دیتے ہیں۔کہتے ہیں اگر تم کو یہ تعلیم ملے تو لے لو۔اور اگر یہ نہ ملے تو پرہیز کرو اور جسے اﷲ عذاب دینا چاہے تو اسے اﷲ سے بچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔یہ ایسے لوگ ہیں کہ اﷲ نے ان کے دلوں کو پاک کرنا نہیں چاہا۔ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۷۹۔۸۰) جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو اس کو تمام ذرّاتب عالم پر ایک تصرّف ملتا ہے اسکی صحبت میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور یہ ایک فطرتی بات ہے کہ ایک انسان کے اخلاق کا اثر دوسرے کے اخلاق پر پڑتا ہے۔بعض طبائع ایسی بھی ہیں جو نیکوں کی صحبت میں نیک اور بدوں کی صحبت میں بد ہو جاتی ہیں۔قرآن کریم میں ایسی فطرتوں کا ذکر آیا ہے ۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہمارے پاس بیٹھ کر ہماری باتوں کو پسند کرتے ہیں۔جب دوسروں کے پاس جا بیٹھتے ہیں تو پھر انکی باتیں قبول کر لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ متقیوں کی صحبت میں رہیں اور وقت ملے تو استغفار، لَاحَوْل اور دعا کریں۔دُعا کی حقیقت سے لوگ کیسے بے خبر ہیں۔(بدر ۲۳؍ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۹،۱۰) : بعض وقت کفر کرنے والے کو آرام میں دیکھ کر ضعیف مومن کا دل گھبرا اٹھتا ہے کہ یہ بے ایمان ہو کر کیسے آرام اور عزّت میں ہے۔یہ دھوکہ ہوتا ہے ورنہ ہم نے کئی ایسے لوگوں کو بطاہر دیکھا ہے کہ اتنا بڑا مکان ہے اور اس میں ایک ہی بڑی دری ہے مگر ساتھ مرگی کا عارضہ ہے جو کثرتب زناء کی وجہ سے ہے۔اسی ایک اور کو دیکھا۔ہر وقت وہاں راگ و رنگ رہتا۔آہستہ آہستہ موقع آیا کہ اس نے اتشک سے اپنا بالکل تباہ ہونا مانا۔اور یہ صرف غم میں دل بہلانے کیلئے تھا۔: یعنی اگر یہ بات ان میں پائی گئی تو سچّے۔ورنہ نہیں۔لوگ گھر ہی سے باتیں بنا کر لے آتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس ایسے ادمی آئے جو گھر سے یہ مشورہ کر آئے کہ فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ پوچھتے ہیں۔اگر انہوں نے کہا۔جائز نہیں۔تو سچے ورنہ جھوٹے۔ایسی خود ساختہ باتوں میں بہت دھوکہ لگتا ہے۔ (المائدہ:۴۲)فَلَمَّا زَاغُوْ آ اَزَاغَ اﷲُ قُلُوْبَھُمْ ( الصف : ۶) سے اس کی تشریح ہوتی ہے یعنی خدا ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا جو خو دٹیڑھاپن سے اس حالت کو پہنچ گئے کہ پھر سیدھے نہیں ہونا چاہتے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۱۲؍ اگست ۱۹۰۹ء)