حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 73

حقائق الفرقان ۷۳ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ قرآن کریم کو محفوظ رکھنا اور اس کا جمع کرنا اور اس کو کھول کھول کر بیان کرنا یہ سب کام ہمارے ذمہ ہیں۔قرآن مجید کی ترتیب میں کوئی تحریف نہ ہو سکے گی۔کوئی امر اس کی اشاعت و حفاظت میں سدراہ نہ ہو گا اب دیکھ لو یہ عظیم الشان پیشگوئی کس طرح پر پوری ہوئی۔۲۳ سال کا متفرق کلام کس طرح با ترتیب جمع ہوا۔اور اب تک کہ اس پر ۱۳ سو سے زیادہ سال گزر چکے کوئی کسی قسم کا اختلاف نہیں ہوا۔اور پھر اس کے بیان کے متعلق جو پیشگوئی تھی وہ بھی کس شان سے پوری ہوئی۔اس خصوصیت میں دنیا کی کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس کے بعد پھر انسانی فطرت کا نقشہ کھینچ کر بتایا کہ جلد باز انسان دنیا سے پیار کرتا اور آخرت کو چھوڑتا ہے۔اپنے اعمال کے نتائج سے غفلت کرتا ہے۔مکہ والو! یا درکھو ایک دن آتا ہے کہ بہت سے چہرہ خوش ہوں گے اور اس وقت بھی ان کا مقصود اور قبلہ حاجات وجہ اللہ ہوگا اس خوشی کی حالت میں بھی خدا کو بھول نہ جائیں گے۔اور بعض اداس اور غمگین ہوں گے پوری پوری تجلی اور ظہور اس کا قیامت میں ہو گا مگر دنیا میں بھی ہوا۔کس طرح بدر میں ہوا اور بالآخر فتح مکہ کا نظارہ کیا دل خوش کن تھا اس کے بعد بتایا کہ انسان جب مرض الموت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی اور اس کے ساتھ والوں کی کیا حالت ہوتی ہے اس وقت کا اضطراب اور موت سے بچنے کی آرزو اور خواہش بھی دراصل قیامت ہی کی دلیل ہے اندر ہی اندر قلب اپنے افعال پر نادم کرتا ہے اور جزا کا خیال ایک ہول اور غم دل پر ڈال دیتا ہے پھر بتایا کہ جلد باز اور مخمور انسان کس طرح خدا سے دور جا پڑتا ہے آخر میں قیامت کے حق ہونے پر ایک اور زبردست دلیل پیش کی میں نے پہلے بتایا ہے کہ قرآن کریم نے بعد لا الہ الا اللہ کے سب سے زیادہ اسی مسئلہ قیامت یا حشر اجساد کو نصب العین رکھا ہے اور اس کے دلائل میں اس نے انفسی اور آفاقی شہادتوں کو مقدم کیا یعنی انسان کی خلقت اور اس کے اعمال کے میلان اور غایت قانون الہی ( فطرۃ اللہ (قانونِ قدرت) سے اقامت قیامت اور ثبوت حشر اجساد اور ضرورت یوم الدین پر جابجا بحث کی ہے چنانچہ اس جگہ فرمایا أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدى الآیة۔اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ انسان کی بناوٹ اور اس کی خلقت اور اس کا تسویہ اور اس کا دو مختلف نتیجوں اور کارروائیوں کی مخلوق یعنی نرومادہ ہونا چاہتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ