حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 72
حقائق الفرقان ۷۲ سُوْرَةُ الْقِيمَةِ جو نفس لوامہ کی صورت میں انسان کو دی گئی ہے جزا وسزا کی یہ بھی مثبت اور شاہد ہے۔اس فطرتی دلیل کے بعد منکرین قیامت کا اعتراض پیش کیا جاتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب انسان مر گیا اور گل سڑ گیا تو اس کے ذرات الگ ہو گئے اب وہ کہاں جمع ہوں گے اور قیامت کیونکر ہوگی؟ اس اعتراض کا جواب اس طرح پر دیا بکلی قادِرِینَ الآیہ۔اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ایسا کرے گا ایک دعوی ہے اس کے دلائل آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں پہلے یہ بتایا کہ انسان انکار قیامت کرتا کیوں ہے؟ اس کی جڑ یہ ہے کہ وہ بدیوں اور بدکاریوں میں منہمک رہنا چاہتا ہے اور اسی بے باکانہ حالت میں پھر پوچھتا ہے اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ یعنی وہ قیامت کا دن کب آئے گا؟ اس کے آثار اور علامات بتائے کہ آنکھیں چندھیا جائیں گی۔اس سے مطلب یہ ہے کہ وہ دن ایسا روشن اور صاف ہو گا جیسے آفتاب کی تیز روشنی ہو اس میں کسی قسم کا خفا اور تاریکی نہیں رہ سکتی وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ یہ آیات اپنے ظاہر پر دلالت کرتی ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔بلکہ ایک رنگ میں ہو بھی چکا تاہم میرے فہم میں اس آیت میں ایک پیشگوئی اور بھی ہے اور وہ عرب اور ایرانی قوموں کے فتح ہونے کے متعلق ہے اہلِ عرب اور شامی قو میں اپنا تعلق چاند سے بتاتی ہیں اور دوسری سورج سے گویا یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام ان مذاہب پر غالب آجائے گا اور یہ مذا ہب گہنا جائیں گے اور اس سے حجت نیرہ اور واضح قائم ہو جائے گی کہ پھر بھاگنے کی جگہ نہ ہوگی۔اور بالآخر اللہ تعالی ہی طرف پناہ لینی پڑے گی یہ واقعات دنیا جانتی ہے ہوئے اور دوسرے ادیان مغلوب ہوئے اور اسلام کا میاب ہوا۔باوجود اس کے ہم یقین رکھتے ہیں کہ قیامت کو اللہ تعالیٰ کی قہری بجلی دوسرے رنگ میں بھی جلوہ گری کرے گی اور اس دنیا کے واقعات اس قیامت کے لئے بطور دلیل اور ثبوت ٹھہریں گے۔پھر اللہ تعالیٰ انسان کو اسی فطرتی دلیل کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کی پاداش کے لئے خود اپنی ذات میں دلائل رکھتا ہے اور وہ آگاہ ہے اس کا نفس جانتا ہے کہ پاداش اعمال حق ہے اور یوں بے جا عذر و حیلے الگ امر ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی حقانیت پر ایک دلیل پیش کرتا جو بجائے خود قیامت کی بھی دلیل ہے اس لئے کہ وجود قیامت کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اب بتایا کہ