حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 51

حقائق الفرقان ۵۱ سُوْرَةُ الْمُؤْمِلِ اسی واسطے قرآن کریم بار بار حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی اور اپنے آپ کو مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ۔(البقرۃ:۴۲) فرماتا ہے۔کیا معنے ؟ قرآن کریم اور نبی عرب نے اپنے ظہور اور حفاظت اور قتل سے بیچ کر توریت کو سچا کر دکھایا۔(ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۸ تا ۱۰) سوره مزمل مکہ معظمہ میں اتری۔جب حضور علیہ السلام بظاہر نہایت کمزوری کی حالت میں تھے اور بظاہر کوئی سامان کامیابی کا نظر نہ آتا تھا۔قرآن نے صاف صاف جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا۔یہ رسول اس رسول کی مثل ہے جو فرعون کے وقت برگزیدہ اور بنی اسرائیل کا ہادی بنایا گیا۔جس طرح اس رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمن بے نام و نشان ہو گئے۔ایسے ہی اس رسول کے دشمن معدوم ہوں گے۔اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا - فَعَطى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَاخَذْ نَهُ أَخْذَا وَبِيلًا - فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمْ اور جس طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم دشمنوں سے نجات پاکر آخر معزز اور ممتاز اور خلافت اور سلطنت سے سرفراز ہوئی اسی طرح ٹھیک اسی طرح لاریب اسی طرح اس رسول کے اتباع بھی موسیٰ علیہ السلام کے اتباع کی طرح بلکہ بڑھ کر ابراہیم کے موعود ملک بالخصوص اور اپنے وقت کے زبر دست بادشاہوں پر علی العموم خلافت کریں گے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِم آمنا - (النور: ۵۶) ا ہم نے ہی بھیجا تمہاری طرف رسول نگران تم پر جیسے بھیجا تھا فرعون کو رسول۔پھر جب نافرمانی کی فرعون نے اس رسول کی تو سخت پکڑ لیا ہم نے اسے۔پھر تم اگر اس رسول کے منکر ہوئے تو کیونکر بچو گے۔سے وعدہ دے چکا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تم میں سے جو ایمان لائے اور کام کئے انہوں نے اچھے ضرور خلیفہ کر دے گا ان کو اس خاص زمین میں ( جس کا وعدہ ابراہیم سے ہوا )۔جیسے خلیفہ بنایا ان کو جوان اسلامیوں سے پہلے تھے۔اور طاقت بخشے گا انہیں اس دین پھیلانے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا اور ضرور ہی بدل دیگا انہیں خوف کے بعد امن سے۔