حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 541
حقائق الفرقان ۵۴۱ سُورَةُ النَّاسِ رہے اور اس کی شرارت ہمارے جسم پر یا اخلاق پر یا روحانی معاملات پر برا اثر ڈالتی ہو یا ڈالا ہواور ہمیں اس کی اطلاع نہ ملی ہو۔چاہے وہ مخفی چیز ہو چاہے وہ انسان ، ہاں شیطان بصورت انسان سے۔میں اپنے لئے آپ یہ دعا مانگتا ہوں اور آپ کو یہ دعامانگنے کی سفارش کرتا ہوں کہ اس جلسہ میں جو کچھ ہم نے سنا۔اس میں سے جو کچھ ہمارے جسم ، اخلاق اور روح کے لئے مفید نہ ہو بلکہ کسی نہ کسی مخفی طریق سے وہ نقصان رساں ہوں اس سے آپ پناہ مانگیں جورب الناس، ملک الناس اور الہ الناس ہے کیونکہ انہیں تین صفات کے ماتحت انسانی جسم ، اخلاق اور روح کی تکمیل ہوتی ہے۔رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ ۲۵۸ تا ۲۶۱) اس سورۃ کو اخیر میں لانے میں یہ حکمت ہے کہ قرآن کو ختم کر کے اور شروع کرتے ہوئے اَعُوذُ پڑھنا چاہیے۔چونکہ یہ طریق مسنون ہے کہ قرآن کریم ختم کرتے ہی شروع کر دینا چاہیے، اس لئے نہایت عمدہ موقع پر یہ سورۃ ہے۔بخاری صاحب نے اپنی کتاب کو إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ سے شروع کیا ہے تا کہ سامعین لوگ اور معلم اور تعلم اپنی اپنی نیتوں پر غور کر لیں۔یادرکھو جہاں خزا نہ ہوتا ہے وہیں چور کا ڈر ہے۔قرآن مجید ایک بے بہا خزانہ ہے۔اس کے لئے خطرہ شیطانی عظیم الشان ہے۔قرآن کے ابتدا میں يُضِلُّ بِہ کثیرا پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے اپنی رسومات کے ادا کرنے کے لئے تو مکان بلکہ زمین تک بیچنے سے بھی نہیں ڈرتے مگر خدا کے لئے ایک پیسہ نکالنا بھی دوبھر ہے۔ایک قرآن پر عمل کرنے سے پہلو تہی ہے اور خود وضعداری و تکلف ورسوم کے ماتحت جو کچھ کرتے ہیں اس کی کتاب بنائی جاوے تو قرآن سے دس گنا حجم میں تعلیم ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ غفور رحیم ہے اس کو ہماری عبادت کی ضرورت کیا ہے حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بھی بد پرہیزیوں سے اور حکام کی خلاف ورزی سے دکھ ضرور پہنچتا ہے۔پس گناہ سے اور احکم الحاکمین کی خلاف ورزی سے کیوں سزا نہ ملے گی۔ان تمام اقسام کے وسوسوں اور غلط فہمیوں سے ( جو اضلال کا موجب ہیں)۔بچنے کے لئے یہ سورۃ سکھائی گئی ہے۔عوذ اُن چھوٹے پودوں کو کہتے ہیں جو بڑے درختوں کی جڑ کے قریب پیدا ہوتے ہیں۔ہر آدمی کو ایک رب کی ضرورت