حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 540 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 540

حقائق الفرقان ۵۴۰ سُورَةُ النَّاسِ تمام تعلقات سے خواہ جسمانی ہوں خواہ اخلاقی ، اندرونی ہوں یا بیرونی جب انسان کو آرام نہیں ملتا تو جو نام انسان کے لئے راحت بخش ہے اس کا نام ہے الہ الناس۔انسان کا اصل مطلب اور غایت درجہ کا محبوب اور معبود۔غرض انسان نے تینوں حالتوں جسمانی ، اخلاقی ، روحانی میں جو جسم کا مربی، قوی کا مربی، روح کا مربی ہے، اس کو اس سورہ میں رب الناس کہا ہے اور وہ ذات جسمانی، اخلاقی، روحانی افعال، اقوال، اعتقادات پر جزا دیتا ہے تب اس کا نام ہے۔ملک الناس۔اور جب وہ انسان کا اصل غرض ذاتی محبوب غایت مقصود بنتا ہے تو اس کو الهِ النَّاس کہا ہے۔اب غور فرما دیں کہ جب ہر سورۃ میں انسان کی حالتوں کی طرف اشارہ کر کے اللہ کریم نے فرمایا کہ رب بھی میں ہوں اور بادشاہ بھی میں ہوں اور محبوب و مطلوب اور غایتِ مقصود بھی میں ہی ہوں تو میرے بندو! مجھے کامل پاک ذات سے پناہ مانگ لو اور کہہ دو ، ہاں ہر ایک انسان تم سے کہہ دے کہ میں ربوبیت اور ضرورت حکومت میں اور ضرورت محبت میں رب الناس، مَلِك الناس، الهِ النّاس کی پناہ مانگتا ہوں اور پناہ بھی کسی امر میں۔مِنْ شَرِ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ( الناس : ۵ تا ۷) یہ قرآن کی آخری سورۃ کیسی بے نظیر اور لطیف ہے جس میں یہ بیان ہے کہ تم اللہ کریم، المولیٰ ، الرؤف الرحیم، رب الناس، ملک الناس الہ الناس سے پناہ مانگ لو تمام ان غلطیوں اور وسوسوں سے جو کسی مُوَسْوِش کے نظارہ یا کلام سے بندے کو ہوں کیونکہ ان وسوسوں کی مثال ہو بہو اس تکلیف رساں کتے کی سی ہے جو آٹھوں پہر کاٹنے کے لئے تیار ہے جس طرح اس کتے سے بچنے کے لئے ہم کو اس کے مالک کی پناہ مانگنی ہے اور اگر اس کا مالک ہمیں بچانا چاہے اور اس کتے کو دھتکار دے تو کیا مجال کہ وہ کتا کسی کو کاٹ کھائے اسی طرح انسانی یا شیطانی وسوسوں سے بچنا بھی اس وجود کی پناہ سے ہو گا جو کل مخلوقات کا رب اور مالک اور محبوب ہے۔وسواس نام ہے ہر ایک ایسی چیز کا جس کا بُرا ہونا ہم سے مخفی رہ گیا اور جس کی بدی سے ہم بے خبر