حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 532 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 532

حقائق الفرقان ۵۳۲ سُورَةُ النَّاسِ نے معرفت کا کبھی نام بھی نہیں سنا۔یہ شخص نفس امارہ کے ماتحت ہے پر خدا تعالیٰ ان سب کے واسطے رب الناس ہے۔یعنی وہ سب کی پرورش کرتا ہے جو لوگ خد تعالیٰ کو نہیں مانتے اور دہر یہ ہیں ان سب کی پرورش کرتا ہے گو ایسے لوگوں کے واسطے ایک وقت عذاب کا بھی بالآخر آ جاتا ہے۔مگر سر دست وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ، اس لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ رب الناس ہے۔جولوگ نیکی کرتے ہیں ان کی پرورش ہوتی ہے۔جو بدی کرتے ہیں ان کی پرورش ہوتی ہے بارش آتی ہے تو نیک و بد سب کے کھیت کو سیراب کر جاتی ہے۔اور سورج نکلتا ہے تو کافر اور مومن سب کو روشنی دے دیتا ہے۔ہوا چلتی ہے۔تو مسلم اور غیر مسلم سب کو اپنا فائدہ پہنچا دیتی ہے اس لحاظ سے خدا تعالیٰ کی ربوبیت عام ہے۔وہ تمام جہان کے لوگوں کا رب ہے، کوئی بڑا ہو یا چھوٹا ہو، امیر ہو یا غریب ہو۔دانا ہو یا بیوقوف ہو۔عالم ہو یا جاہل ہو ، بادشاہ ہو یا رعایا ہو ہر ایک کو اس کی ربوبیت عامہ سے حصہ دیا جاتا ہے اس لحاظ سے وہ رب الناس ہے۔درمیانہ درجہ کے لوگ جو درجہ ادنیٰ سے اوپر کے درجہ میں ہیں وہ ہیں ، جن کو معرفتِ الہی کا شوق پیدا ہو گیا ہے انہوں نے جان لیا ہے کہ نیکی عمدہ شئے ہے اور وہ خواہش رکھتے ہیں کہ اپنی موجودہ حالت سے نکلیں اور ترقی کریں اور آگے قدم رکھیں۔بدیوں کو چھوڑ دیں اور نیکیوں کو اختیار کریں۔لیکن ان کا نفس ہنوز ان پر غالب ہے وہ بدی سے پر ہیز کرتے ہیں مگر بسبب کمزوری پھر بھی کسی نہ کسی وقت بدی میں گر جاتے ہیں۔اٹھتے ہیں اور پھر گر جاتے ہیں۔پھر اٹھتے ہیں اور پھر گر جاتے ہیں یہی حالت ان کی ہوتی رہتی ہے۔وہ دل سے کچی تو بہ کرتا ہے کہ اب آئندہ یہ کام نہ کروں گا لیکن نفس کے جذبہ کے وقت پھر کر بیٹھتا ہے، اور خدا تعالیٰ کی غفاری اور ستاری کی طرف پھر جھکتا ہے اور اس کی رحمت کے حضور میں فریادی ہوتا ہے اور اپنی کمزوری کے سبب نالاں رہتا ہے اور شب و روز اس فکر میں سرگرداں پھرتا ہے کہ کب وہ وقت آئے گا کہ پھر بدی اس کے قریب کبھی نہ آئے گی۔وہ اقرار کرتا ہے کہ میں ایک بادشاہ حقیقی ( ملک الناس) کی حکومت کے ماتحت ہوں اور اس کے قوانین کی فرماں برداری مجھ پر واجب ہے اس واسطے وہ قواعد شرعیہ کی پابندی کے واسطے ہر وقت سعی کرتا رہتا ہے لیکن اپنی