حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 531 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 531

حقائق الفرقان ۵۳۱ سُورَةُ النَّاسِ یہ ایک عجیب دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے خود ہم کو سکھائی ہے۔اس کے کسی قدر ہم معنے وہ دعا ہے جو دوسری جگہ قرآن شریف میں آتی ہے اور وہ اس طرح سے ہے۔رَبَّنَا لَا تُزِعُ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا (آل عمران : ٩) اے ہمارے رب بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائی۔ہمارے دلوں کو سج نہ کر یعنی ایک دفعہ جس نیکی کو ہم حاصل کریں۔وہ استقامت کے ساتھ ہمارے اندر قائم رہے۔یه سوره شریف قرآن شریف میں سب سے آخری دعا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ یہ قرآن جس کے پڑھنے کی تو نے ہم کو تو فیق دی ہے۔اب ایسا کر ہمارے دل اس پر ایمان کے واسطے ایسے پختہ رہیں کہ اس کلام کے متعلق کوئی وسوسہ اور بد خیال کبھی ہمارے دل میں نہ آنے پاوے۔اور ہم اس پر عمل کریں اور تیرے نیک بندوں میں شامل ہو جاویں۔قرآن شریف کے ذریعہ سے رحمان خدا نے کس قدر رحمت دنیا پر نازل فرمائی۔تمام احکام شرعیہ، گذشتہ بزرگوں کی نیک مثالیں ،طریق دعا، غرض ہر شئے ضروری کی تعلیم دی گئی ہے۔اس سورہ شریف کے شروع میں انسان کا نام تین بار لیا گیا ہے۔اور ہر بار اللہ تعالیٰ کا ایک جدا نام اس پر رکھا گیا ہے۔یعنی پہلی دفعہ رب الناس کہا گیا ہے۔دوسری بار ملک الناس فرمایا ہے اور تیسری بارالہ الناس مذکور ہوا ہے۔یہ ہر سہ صفات الہیہ انسان کی تین مختلف حالتوں کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے تین فیضانوں کی طرف جو انسان کی ان حالتوں پر وارد ہوتے ہیں اشارہ کرتی ہیں۔انسان بلحاظ اپنی روحانی ترقی یا تنزل کے تین درجے رکھتا ہے۔سب سے ادنیٰ درجہ کا انسان وہ ہے جسے کچھ خبر نہیں کہ حصول نیکی اور حصولِ معرفت الہی کیا شئے ہے اور وہ کتنی بڑی نعمت ہے۔ایسے شخص کے واسطے نیکی بدی سب برابر ہے۔اگر وہ بدی کرتا ہے تو اسے کبھی کچھ فکر نہیں ہوتا کہ میں بدی کرتا ہوں۔اس کا نفس اس پر نہ صرف غالب ہے۔بلکہ پوری طرح اس پر حکمران ہے، وہ نہیں جانتا کہ دین اور دین داری کیا لطف اپنے اندر رکھتی ہے اور نہ دینداروں کی محبت اختیار کرتا ہے اور نہ اس کو کبھی یہ خواہش ہی پیدا ہوتی ہے کہ دیندار بنے وہ اپنی حالت میں مثل ایک بے خبر کے پڑا ہے۔جس