حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 512
حقائق الفرقان ۵۱۲ سُوْرَةُ الْفَلَقِ تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں لاہور میں گیا۔میرے آشنا نے مجھے ایک جگہ لے جانے کے واسطے کہا اور میں اس کے ساتھ ہو لیا مگر نہیں معلوم کہ کہاں لے جاتا ہے اور کیا کام ہے۔اس طرح کی بے علمی میں وہ مجھے ایک مسجد میں لے گیا۔جہاں بہت لوگ جمع تھے۔قرائن سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ کسی مباحثہ کی تیاری ہے۔میری چونکہ نماز عشاء باقی تھی۔میں نے ان سے کہا کہ مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ مجھے ایک موقع مل گیا کہ میں دعا کرلوں۔خدا کی قدرت اس وقت میں نے اس سورۃ کو بطور دعا پڑھا اور بار یک در بار یک رنگ میں اس دعا کو وسیع کر دیا اور دعا کی کہ اے خدائے قادر و توانا تیرا نام فالفی الْإِصْبَاحَ فَالِی الْحَبِ وَالنَّوى ہے۔میں ظلمات میں ہوں۔میری تمام ظلمتیں دور کر دے اور مجھے ایک نور عطا کر جس سے میں ہر ایک ظلمت کے شر سے تیری پناہ میں آ جاؤں۔تو مجھے ہر امر میں ایک حجت نیزہ اور برہان قاطعہ اور فرقان عطا فرما۔میں اگر اندھیروں میں ہوں اور کوئی علم مجھ میں نہیں ہے تو تو ان ظلمات کو مجھ سے دور کر کے وہ علوم مجھے عطا فرما اور اگر میں ایک دانے یا گٹھلی کی طرح کمزور اور ر ڈی چیز ہوں تو تو مجھے اپنے قبضہ قدرت اور ربوبیت میں لے کر اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا۔غرض اس وقت میں نے اس رنگ میں دعا کی اور اس کو وسیع کیا جتنا کہ کر سکتا تھا۔بعدہ میں نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کی طرف مخاطب ہوا۔خدا کی قدرت کہ اس وقت جو مولوی میرے ساتھ مباحثہ کرنے کے واسطے تیار کیا گیا تھا۔وہ بخاری لیکر میرے سامنے بڑے ادب سے شاگردوں کی طرح بیٹھ گیا اور کہا۔یہ مجھے آپ پڑھا دیں۔وہ صلح حدیبیہ کی ایک حدیث تھی۔حضرت مرزا صاحب کے متعلق اس میں کوئی ذکر نہ تھا۔لوگ حیران تھے اور میں خدا تعالیٰ کے تصرف اور کا ملہ قدرت پر خدا کے جلال کا خیال کرتا تھا۔آخر لوگوں نے اس سے کہا کہ یہاں تو مباحثہ کے واسطے ہم لائے تھے۔تم ان سے پڑھنے بیٹھ گئے ہو۔اگر پڑھنا ہی مقصود ہے تو ہم مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کر دیتے۔ان کے ساتھ جموں چلے جاؤ اور روٹی بھی مل جایا کریگی۔وہی شخص ایک بار پھر مجھے ملا اور کہا کہ میں اپنی خطا معاف کرانے آیا ہوں کہ میں نے کیوں آپ کی بے ادبی کی۔میں حیران تھا کہ اس نے میری کیا بے ادبی کی۔حالانکہ اس وقت بھی اس نے